یہی لوگ مُراد کو پہنچیں گے!!!

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر

از:۔مدثراحمد،شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
ابو یہ گینگ ریپ کیا ہوتا ہے ، کل سے ٹی وی میں یہی دکھایا جارہاہے ؟۔ یہ سوال ایک معصوم بچے نے اپنے والد سے پوچھا ، والد بچے کے اچانک اس سوال پر ششد رہ گیا کیونکہ وہ اپنے معصوم بچے کو کس طرح سے سمجھائے وہ بات اسکی سمجھ میں نہیں آرہی تھی ، جی ہاں یہ حقیقی بات ہے ، میں جب کٹنگ شاپ میں پہنچا تو وہاں پر ایک نیوزچینل پر میسور میں ہونے والی اجتماعی عصمت دری کی واردات کے سلسلے میں نیوز دکھائی جارہی تھی ، بچے کو جب اسکے والد نے پوچھا کہ ایسے سوالات نہیں کرنا ہے تو اس معصوم نے جو جواب دیا وہ ہم سب کو جھنجوڑنے والا جواب تھا ، بچہ اس وقت کہہ رہا تھا کہ ابو آپ ہی تو کہتے ہیں کہ ٹی وی صرف نیوز دیکھنے کیلئے ہے اور یہ نیوز میں بتارہاہے کہ گینگ ریپ ہوا ہے ،اس لئے پوچھا۔ اس معصوم کے سوالات و جوابات ہم سب کو ایک بار پھر یہ سوچنے پر مجبور کرچکے ہیں کہ آخر ہم سماج کو کونساپیغام دے رہے ہیں ۔ کچھ سال قبل تک لوگ اپنے بچوں کو کسی دوسرے شہروں کو بھیجتے تھے تو وہ بس کے ڈرائیور ، کنڈکٹر یا دوسرے مسافروں کو یہ کہہ کر ساتھ کردیتے تھے کہ بچوں کی انکی منزل پہنچنے تک نگرانی کریں ، اسکے بعد والدین یا سرپرست مطمئن ہوجاتے تھے کہ چلو ڈرائیور یا کنڈکٹر یا پھر مسافرانکے بچوں کی حفاظت کرتے ہوئے انکی منزل پر پہنچادیگا ۔ لیکن اب حالات بدل چکے ہیں اس قدر بدلے ہوئے ہیں کہ بچوں کو اپنوں کے ساتھ بھیجنابھی مشکل ہوچکاہے ۔ ایسے میں میڈیا میں جس طرح سے سماج کو پیغام دینے کا سلسلہ شروع ہوا ہے وہ مزید سماج کو بگاڑنے کاکام کررہاہے ۔ ہر دن صبح ہوتے ہی آپ کے سامنے عصمت دری کی رپورٹ ہوگی ، کبھی نابالغ کے ساتھ تو کبھی بوڑھے کے ساتھ ، کبھی مسلم کے ساتھ تو کبھی دلت کے ساتھ جنسی زیادتیوں کی رپورٹس دیکھی جاسکتی ہیں۔ اس وقت میڈیا میں اگر کوئی سب سے بڑا مسئلہ ہے تو وہ ریپ یعنی عصمت دری کی رپورٹس ہیں ان رپورٹس کو بتانا ، اس پر تبصرے کرنا اوراس کی تصوراتی ویڈیوز بنانا مانیں کہ میڈیا کا دھرم بن چکا ہے جبکہ یہ ایک ایسی سماجی برائی ہے جسے ہم خود کچے ذہینوں  زبردستی ٹھونس رہے ہیں اور جن بچوں کو ان بری چیزوں کے تعلق سے کچھ بھی معلوم نہیں انہیں معلوم کرنے کے لئے مجبور کررہے ہیں ۔ اس وقت سب کے ہاتھوں میں موبائل فونز ہیں ، کچھ عرصے پہلے تک بچوں کو ٹی وی دیکھنے سے روکا جاتا تھا لیکن جب ٹی وی پر ریموٹ کنٹرول والدین کے کنٹرول سے باہر ہوگیا تو اسوقت کی نسل بر ےاثرات نمودار ہونے لگے تھے اور وہ اخلاقی برائیوں کا شکار ہونے لگے ، اب موبائل فونز کا زمانہ ہے ، تین چار سال پہلے تک اس بات پر تبصرے ہو ا کرتے تھے کہ بچوں کو موبائل فون دینا ہے یا نہیں دینا ہے ، اسکی لت پڑنے سے کیسے بچایا جاسکے ، لیکن اب موبائل فونز بچوں کی زندگی کا حصہ بن چکے ہیں اور ان موبائل فونز کے بغیر انکی تعلیم ادھوری ہے ۔ یقیناََدنیامیں ہر ایجاد کے منفی و مثبت نتائج ہیں ، ہر ایجاد کے فائدے و نقصانات ہیں بس ہمارے ذہین میں یہ بات رہنی چاہئے کہ ہم کیسے ان ایجادات کا استعمال کررہے ہیں یا کرنا ہے ۔ دوسری بات اہم اور ضروری ہے ۔ اسلام نے جب ساری دنیا کو مکمل ضابطہ حیات کا نسخہ دے دیا ہے تو مسلمان ان ضوابطوں پر عمل کیوں نہیں کررہے ہیں ۔ ہمارے پاس کچھ ایسی ملّی و دینی تنظیمیں ہیں جو وقتاًفوقتاً اصلاح معاشرے کے نام پر جلسے و اجلاس کااہتمام کیا ہے ، ان تنظیموں کے ذریعے مہم چلائی جاتی رہی ہیں لیکن کیا کبھی مسلم تنظیم ، ادارے ، جماعت ، دارالعلوم کی جانب سے عدالت و حکومت سے اس بات کامطالبہ کیا گیا ہےکہ ملک میں شراب نوشی ، موبائل فون پر پورن و فحش ویڈیوز کی نمائش ، فلموں میں گندے مناظر ،اشتہارات میں عریاں تصاویر ، گانوں میں فحش الفاظ کا استعمال پر پابندی لگائی جائے ۔ جو لوگ اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں ان پر عدالتیں یا پولیس محکمے یا پھر جانچ ایجنسیاں سوموٹو کیس درج کریں ۔ملک کی تاریخ میں شاید ہی کبھی کسی مسلم سماج کی جانب سے ایسی پہل کی گئی ہو۔ جہاں تک ہمارے علم کی بات ہے ایسا قدم کسی نے نہیں اٹھایا ہے۔ آج عصمت دری کی جووارداتیں بڑھ رہی ہیں کیاوہ سب نوجوانوں کے تئیں بڑھوں کی لاپرواہی کا نتیجہ نہیں ہے ؟۔ آپ خود ہی بتائیں جس سماج میں ہر دن اخبارات و نیوز بلٹین کی سرخیاں ریپ ، مرڈ ر ، افیر کے تعلق سے ہوتی ہو ں توکیا اس سماج میں کمسننسلوں کے ذہینوں میں یہ سوال نہیں ابھر یگا کہ آخر عصمت دری ہے کیا چیز جو اس قدر لوگوں میں بحث کا باعث بنتی ہے ۔ سماج کو بدلنے کی ذمہ کسی ایک کی نہیں ہے اور نہ ہی یہ ممکن ہے بلکہ اس سلسلےمیں اجتماعی جدو جہد کرنے کی ضرورت ہے ، خصوصاًمسلم سماج کی ، کیونکہ مسلمانوں پر یہ سب سے بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ حق کا پیغام پہنچائیں اورباطل کو ختم کریں ، نیکی کا حکم دیں ، بدی سےبچیں اور بچائیں ۔ قرآن میں حکم ہے :۔ اور تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کاحکم دیں اور بُری سے منع کریں اور یہی لوگ مراد کو پہنچیں گے۔