عصمت دری کے ملزم آسا رام کو علاج کیلئے رعایت نہیں :سپریم کورٹ

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:(انقلاب نیوزبیورو):۔خود ساختہ ہندو مذہبی گرو آسارام کو منگل کو سپریم کورٹ سے بڑا جھٹکا لگاہے۔ عدالت نے آسارام کو آیوروید اسپتال میں علاج کے لیے ضمانت دینے سے انکار کردیاہے۔ آسارام نے چھ ہفتوں کے لیے ضمانت مانگی تھی لیکن سپریم کورٹ نے درخواست مسترد کرکے ارمانوں پر پانی پھیردیا۔ 80سالہ عصمت دری کے ملزم آسارام اپنی ایک نابالغہ شاگردہ سے ریپ کے الزام میں راجستھان کی ایک جیل میں بند ہے۔80سالہ ملزم آسا رام نے اتراکھنڈ میں علاج کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی،اس سے قبل یہ اطلاع ملی تھی کہ 80 سالہ ملزم آسارام جو جودھپور جیل میں عمر قید کی سزا بھگت رہا ہے ، کورونا کے بعد سے طبی مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ جب اسے گزشتہ ہفتے ضلعی عدالت میں پیش کیا گیا تو وہ کمزور نظر آرہا تھا۔ عصمت دری کے ملزم آسارام میں اتنی طاقت بھی نہیں تھی کہ وہ خود سے چل سکے۔ اسے پولیس والوں کی مدد سے چلتے ہوئے دیکھا گیا۔ 80سالہ عصمت دری کے ملزم آسارام  شروع سے ہی آیورویدک ادویات لیتا ہے، جب اسے گرفتار کیا گیا تو اس کی آیوروید طبی مشیر جودھپور گئی تھی تاکہ اسے آیورویدک دوائیں دے سکے۔ جنسی زیادتی کے الزام کے کیس کی سماعت کے دوران اسے ایک بار آیوروید یونیورسٹی میں داخل کیا گیا تھا۔ سزا ملنے کے بعد اب وہ بیمار ہونے پر عدالتی ہدایات پر جودھپور میں آیوروید علاج کروا ر ہاہے ۔ 80سالہ عصمت دری کے ملزم آسارام کا علاج ڈاکٹر ارون تیاگی کر رہے ہیں،تاہم کورونا کے بعد سے اسے باقاعدہ چیک اپ کے لیے ایمس بھی لے جایا گیا،جہاں 80سالہ عصمت دری کے ملزم آسارام نے کئی بار انگریزی ادویات لینے سے انکار کیا ہے۔