دہلی:(انقلاب نیوزبیورو):۔ ہندوستانی ہوا بازی صنعت کو رواں مالی سال میں 260 ارب روپے کا خسارہ ہونے کا امکان ہے اور سال 2022-24 کے دوران اس کو 470 ارب روپے تک اضافی فنڈنگ کی ضرورت پڑ سکتی ہے ۔ مارکیٹ اسٹڈی اور ایڈوائزری سروسز ایجنسی آئی سی آر اے نے منگل کے روز اس حوالے سے اپنی رپورٹ میں تخمینہ پیش کیا ہے کہ رواں مالی سال میں ہوا بازی شعبے کے مسافروں کی تعداد میں 45 سے 50 فیصد تک اضافے کا امکان ہے ۔ مارچ 2022 کو ختم ہونے والے مالی سال میں، ہندوستانی ایئر لائنز کے بین الاقوامی مسافروں کی تعداد میں 80-85 فیصد اضافہ ہوسکتاہے ، لیکن تب بھی یہ مالی سال 16 کی سطح سے نیچے ہے ۔آئی سی آر اے نے کہا کہ طیارہ کے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور مسافروں کے کرائے پر کیپ کی حد مقرر کرنے سے ایئر لائنز کے منافع متاثر ہوسکتی ہیں اور اس کے نتیجے میں انڈسٹری کو مزید خسارہ اٹھانے کی توقع ہے ۔آئی سی آر اے کے نائب صدر اور جوائنٹ گروپ کے سربراہ کنجل شاہ نے کہا کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر کے بعد سے ہوائی مسافروں کی تعداد بتدریج بڑھ رہی ہے اور مالی سال 2024 تک گھریلو ہوائی مسافروں کی تعداد کووڈ سے پہلے کی سطح تک پہنچنے کی توقع ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ تک سالانہ بنیاد پر طیارہ کے ایندھن کی قیمتوں میں 71 فیصد اضافہ اور ہوائی کرائے کا تعین اس صنعت کے منافع کے سامنے ایک بڑا چیلنج ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں ہندوستانی ہوا بازی کی صنعت کو رواں مالی سال میں 250 سے 260 ارب روپے کا خسارہ ہوسکتا ہے ۔ اس کے ساتھ اس صنعت پر قرض کی حد بھی بڑھ جائے گی۔ موجودہ مالی سال میں ہوائی جہاز کے لیز چارجز کے ساتھ ان کی ادائیگی 1200 ارب روپے ہو سکتی ہے ۔ اس کے پیش نظر، اس صنعت کو مالی سال 2022 سے مالی سال 2024 کے دوران 450 سے 470 ارب روپے کے اضافی سرمائے کی ضرورت ہوگی۔
