لکھنو:(انقلاب نیوزبیورو):۔گائے کو قومی جانور قرار دینے اور اس کے تحفظ کو ہندو مذہب کے بنیادی حقوق میں شامل کرنے کی ہدایت الہ آبادہائی کورٹ نے دی ہے اور کورٹ نے گائوکشی کے ایک ملزم کو ضمانت دینے سے بھی انکار کیا ہے۔عدالت کا کہناہے کہ ایک ملک کی ثقافت اور عقائد پر جب ٹھیس پہنچائی جاتی ہے تو وہ ملک کمزور ہونے لگتاہے۔عدالت نے ملزم کی ضمانت کو نہ منظو رکرتے ہوئے کہاکہ عرضی گذار جانوروں کا چورہے،اس کے بعد وہ ان جانوروں کو کاٹتاہے اور اس کا سر وگوشت اپنےساتھ رکھا ہواپایا گیا ہے،عرضی گذار کا یہ پہلا جرم نہیں ہے،اس سے پہلے بھی اس نے اس طرح کے جرم انجام دئیے ہیں اور سماج میں انتشار پھیلانے کی کوشش کی ہے،اس لئے اسے ضمانت دی جاتی ہے تو وہ سماج کے ماحول کو تباہ کریگا۔ملزم پر آئی پی سی کی دفعہ379(چوری کی سزا) اور انسدادگائوکشی قانون کی شق3،5،8کے تحت الزامات عائدکئے گئے ہیں۔عدالت نے اپنے بیان میں کہاہے کہ بنیادی حق صرف گائےکا گوشت کھانے والوں کاحق نہیں ہے بلکہ گائےکی پوجاکرنےا ور اس پر معاشی طور پر منحصر ہونے والوں کا بھی حق ہے، جینے کا حق مارنے کے حق سے زیادہ بڑا حق ہے، گائے کا گوشت کھانے کا معاملہ کبھی بھی بنیادی حق تسلیم نہیں کیاجاسکتا۔گائےکی عمرہونے کے باوجود اور بیمار ہونے کے باوجود بھی استعمال کے لائق ہے،اس کا گوبر اور پیشاب زراعت اودیات کیلئے استعمال کیا جاتاہے۔عمر ہو نے پر گائے کو ماں کی طرح پوجاکی جاتی ہے اور گائے کو ذبح کرنے کا حق کسی کو نہیں دیا جائیگا۔گائے کی اہمیت صرف ہندوہی نہیں سمجھتے ہیں بلکہ مسلمانوں کے دورِ اقتدارپر بھی گائے کے ذبح پر بھی پابندی لگائی گئی تھی اور مسلم بادشاہوں نے گائے کے تحفظ کو بھارت کی تہذیب قراردیاتھا۔پانچ مسلم بادشاہوں نے بھی گائوکشی کو ممنوع قرار دیاتھا،جس میں بابر،ہمایوں،اکبر اور حیدرعلی شامل ہیں۔میسورکے نواب حیدرعلی نے گائوکشی کو جرم قراردیاتھا۔وقتاً فوقتاً ملک کی مختلف عدالتوں نے اور سپریم کورٹ نے گائے کی اہمیت اور عظمت کے تعلق سے کئی فیصلے سنائے ہیں،گائے کوتحفظ فراہم کرنے کیلئے ایوانوں میں قوانین تشکیل دئیے ہیں،باوجود اس کے گائے کوذبح کرنے کے معاملات نہایت دل کو چھوٹ پہنچانے و الے ہیں۔حکومت گائوشالائیں بناتی ہے لیکن ان جانوروں کی نگرانی کرنے والے صحیح طریقے سے ان کاتحفظ نہیں کرتے،ایسے معاملات سامنے آئے ہیں ،گائو شالائوں میں گائے بھوک سے مررہی ہیں،مختلف بیماریوں کا شکارہیں،پالی تھین کھاکر بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔دودھ نہ دینے والی گائے کی حالات اور بھی خراب ہے ،وہ لاوارث ہورہے ہیں۔ایسے میں گائے کے تحفظ کے دعویدارکہاں گئے ہیں،یہ سوال پیداہورہاہے۔بعض اوقات لوگ گائے کے ساتھ فوٹو نکال کر اپنی ذمہ داری کو مکمل سمجھ لیتے ہیں،لیکن ایسانہیں ہوناچاہیے،گائے کاتحفظ مکمل طریقے سے ہوناچاہیے۔حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے معاملات پر سنجیدگی سے غورکرے۔حکومت پارلیمان میں قانون لاکر گائے کو قومی جانور قرار دے اور گائے کونقصان پہنچانے والے لوگوں پر سخت قانونی کارروائی کی جائے۔اسی طرح سے گائے کےتحفظ کے تعلق سے جو جھوٹی تشہیر کرتے ہیں اُن کیلئے بھی قانون بنایاجائے، یہ لوگ صرف پیسے کمانےکیلئے گائے کے تحفظ کا دعویٰ کرتے ہیں۔گائے کاتحفظ کسی ایک مذہب یا ذات کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ یہ بھارت کی تہذیب ہے اور اس تہذیب کی ذمہ داری ہر شہری کی ہے۔جس وقت ہم نےاپنی تہذیب وروایت کو بھلایاتھا،اس دوران غیر ملکی ہم پر حملہ کرتے ہوئے ہمیں غلام بنایاتھا،لیکن ہم آج بھی بیدارنہیں ہوئے ہیں۔افغانستان ہمارے لئے تازہ مثال ہے۔بھارت ایک ایسا ملک ہے جہاں پر مختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہیں اور ہر ایک الگ الگ طریقے کی عبادت کرتے ہیںلیکن ہر ایک کو ملک کے تئیں یہ بھی فکر رکھنے کی ضرورت ہے اور ایک دوسرے کےمذاہب کی عزت کرنے کی ضرورت ہے۔
