کوویڈکے دوران کوویڈ اشتہارات پرآر ایس ایس کے اخبارکوحکومت نے دئیے23لاکھ کے اشتہار; ضرورت مندوں کودینے کیلئے حکومت کے پاس رقم نہیں،علماء کے ساتھ بھی ہوا دھوکہ؟

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
بنگلورو:(انقلاب نیوزبیورو):۔کوویڈکے دوران کرناٹکا حکومت نےاپنے مختلف منصوبوں کو عوام کے سامنے پیش کرنے کیلئے صرف چار صفحات کے اشتہارات کیلئے جملہ60.1 کروڑ روپئے خرچ کئے ہیں،جس میں سب سے زیادہ اشتہار آر ایس ایس کے اہم ترجمان "ہوسادیگنتا” کو دستیاب ہوئے ہیں۔سال2020 کے جولائی25 تا27 کے درمیان چار صفحات پر مشتمل ریاست کے مختلف ریاستی اخبارات کو دئیے گئے تھے،ان اخبارات کومنظور شدہ اشتہاری ایجنسیوں کےذریعے سے اشتہارات دینے کے بجائے راست اشتہارات دیکر قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ریاستی حکومت نے جو اشتہارات دئیے ہیں اُ س کی تفصیلات آر ٹی آئی سے اکٹھاکئے جانے پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ صرف دو دنوں کیلئے حکومت نے وجئے وانی اخبارکو73.19لاکھ روپئے کے اشتہارات ،وجئے کرناٹکا کو36.13لاکھ روپئے کے اشتہارات،پرجا وانی کو85.14 لاکھ روپئے کے اشتہارات،کنڑاپربھا کو91.7 لاکھ روپئے کا اشتہار،ہوسادیگنتا کو73.23 لاکھ روپئے کے اشتہارات،وارتھا بھارتی کو19.2 لاکھ روپئے کے اشتہار،ٹائمز آف انڈیا کو 21.15 لاکھ کے اشتہار، وشواوانی کو91.7لاکھ روپئے کے اشتہار، دی ہندو کو 3.9لاکھ روپئے کے اشتہار،انڈین ایکسپریس کو 73.4 لاکھ روپئے کے اشتہار،سنجئے وانی کو72.3 لاکھ روپئے کے اشتہار،ای سنجئے کو72.3 لاکھ روپئے کے اشتہار،آندولن کو72.3لاکھ روپئے کے اشتہار ، میسورمترا پیپر کو72.3لاکھ روپئے کے اشتہار، اسٹار آف میسورکو14.1 لاکھ روپئے کے اشتہار دیا گیا ہے ۔ریاستی حکومت نے وزیر اعظم نریندر مودی کی یوم پیدائش کے موقع پر خصوصی اشتہارات کے طور پر 85.44 لاکھ روپئے خرچ کئے تھے،اسی طرح سے مرکزی وزیر امیت شاہ کی آمد پر89 لاکھ روپئے کے اشتہارات ریاستی سطح کےا خبارات پر خرچ کئے ہیں۔دوسری جانب ریاستی حکومت نے کوویڈ سے پریشان نجی تعلیمی اداروں کے اساتذہ،گیسٹ لکچرر ،علماء،سبزی پھول بیچنے والے تاجر،کمہار،بڑھئی،ہیر کٹرس،مہاجر مزدوروں کو حکومت کی طرف سے مالی امداددینے کیلئے رقم نہیں ہے۔حالانکہ سال2021 میں حکومت نے عرضیاں لی تھیں،اس سے قبل سال2020 میں بھی گیسٹ لکچرر اوراساتذہ کو چھوڑ کر دوسرے الگ الگ شعبوں کے پاس سے مالی امدادکیلئے عرضیاں لی تھیں،لیکن آج تک ان عرضیوں کے مطابق مالی امداد نہیں پہنچائی گئی ہے۔صرف 3ہزار روپئے کی امدادکیلئے ہزاروں لوگوں نے عرضیاں دے رکھی ہیں،لیکن اب تک کسی کو بھی پیسے نہیں ملے ہیں۔امسال کرناٹکا حکومت نے کوویڈ سے مرنے والے لوگوں کو ایک لاکھ روپئے کامعاوضہ دینے کا اعلان کیا تھا،لیکن اس کیلئے اب تک کسی بھی طرح کی پیش رفت نہیں ہوئی ہے ۔وہیں علماء، موذنین،مدرسین،اماموں کو بھی حکومت کی طرف سے کوویڈکا معاوضہ دینے کا اعلان ہوا تھا ، آناًفاناً میں لوگوں نے علماء نے عرضیاں پُر کرتے ہوئے حکومت سے اُمید ظاہرکی تھی،لیکن ریاست کے علماء کواُس وقت شدید جھٹکا پہنچا جب حکومت نےا علان کیاکہ یہ رقم صرف وقف رجسٹریشن ہونےو الے علماء کو دی جائیگی،دوسرے غیر رجسٹر شدہ علماء کو اس میں کوئی معاوضہ نہیں ملے گا۔سوال یہ ہے کہ عوام کی مددکئے بغیرہی پیسوں کے بل بوتے پر جو تشہیر بی جے پی لے رہی ہے وہ تشہیر لوگوں کے کام کرکے بھی لی جاسکتی تھی،مگر ایسانہیں ہواہے،جو پھر سے ایک مرتبہ یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حکومت عوام کی نہیں ،سرمایہ داروں اور گودی میڈیاکی ہے۔