بنگلورو: (انقلاب نیوزبیورو):۔کرناٹکا میں مدرسوں میں اسلامی تعلیمات ، مذہب اسلام ، قرآن اور پیغمبر اسلام کی تعلیمات کو پڑھایا جاتا ہے اوران تعلیمات کے ذریعہ وہاں پڑھنے والے بچوں کو سماجی زندگی گذارنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ یہ اعتراف کسی عالم یا مسلمان نے نہیں کیا تھا بلکہ بی جے پی حکومت میں ریاستی وزیر برائے حج واقاف کے سابق وزیر آنند سنگھ نے اسمبلی میں تحریری طورپر پیش کیا تھا۔ یہ تحریر بی جے پی لیڈرسی ٹی روی کیلئے طمانچے سے کم نہیں،جنہوںنے پچھلے دنوں یہ کہاتھا کہ مدرسوں میں جو تعلیم دی جارہی ہے وہ طالبان کو پیداکرنے کی تعلیمات ہیں، ملک میں اورایک پاکستان بن جائےگا۔ لیکن انکے ہی پارٹی کے سینئرلیڈر آنند سنگھ نے ایوان اسمبلی میںپوچھے گئے یہ سوال پر کہ مدرسوں میں کیا کیا تعلیمات دی جاتی ہیں اورکونسے عنوانات پر وہاں درس دیا جاتا ہےاورکونسی سہولیات دی جاتی ہیں؟۔ اس پر آنند سنگھ نے 2021 کے 29 جنوری کو اسمبلی میں تحریری جواب دیتے ہوئے کہا تھاکہ مدرسوں میں اسلامی تعلیمات دی جاتی ہیں اوروہاں پر ایس ایس ایل سی تک کیلئے تعلیم کی سہولت ہے، مدرسوں نے کبھی بھی حکومت سے تقررات یا سرکاری سہولیات کیلئے مطالبہ نہیں کیا ہے۔ وہاں پر دینی تعلیم کیلئے علاوہ کنڑا ،کمپیوٹر کی تعلیم بھی دی جاتی ہے اورخواہشمند طلباء کو حسب خواہش تعلیم کی سہولت بھی دی جاتی ہے۔ اس سوال سے واضح ہوا کہ سی ٹی روی ابھی بچہ ہے کہ اسمبلی میں کیا کارروائی ہورہی ہے اورکیا مطالبات ہورہے ہیں اسکی کوئی معلومات نہیں ہے۔اب سوال یہ ہے کہ ان تمام بنیادوں لیکر مسلمانوں کی کونسی تنظیم ہوگی جو سی ٹی روی کے خلاف کارروائی کیلئے پیش رفت کریںگے۔
