شیموگہ:(انقلاب نیوزبیورو):۔کانگریس پارٹی میں مخصوص خاندانوں کی گرفت مضبوط ہونے کے بعد زمینی سطح پر کام کرنے والے کانگریسی کارکنان اور نئی نسل کے نوجوان آہستہ آہستہ کانگریس سے دورہوکر یاتو سیاست سے کنارہ کشی کررہے ہیں یاپھر دوسری پارٹیوں کارخ کررہے ہیں۔جس سے اس بات کا اندیشہ ظاہرکیاجارہاہے کہ آنے والے دنوں میں کانگریس میں صرف سفید بال والے بزرگ ہی رہے جائینگے۔کانگریس مخصوص طبقات کے ووٹ بینک کو اپنی جانب مائل کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے،مختلف ذاتوں اور سماج کے لوگوں کے ساتھ رابطہ کررہی ہے ،لیکن نوجوان نسل اور مسلمانوں کے تعلق سے پوری طرح سے لاپرواہ ہوچکی ہے،جس کی بہترین مثال ریاست کے کانگریسی اقلیتی شعبہ کےنہ تو صدر کوبدلاگیا،نہ ہی ریاستی سطح پر کبھی مسلمانوں کو ملی قائدین کو بھروسہ میں لینے کیلئے کام کیاگیا۔چند مخصوص لوگ جو اپنے آپ کو ملی قائدین کا درجہ دیتے ہیں وہی کانگریس پارٹی کےجلسوں میں دکھائی دیتے ہیں۔صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ عام کارکنان بھی پارٹی کی سرگرمیوں سے دور ہوتے جارہے ہیں اور وہ خاندانی سیاست یعنی کنبہ پرروری کی سیاست تنگ آچکے ہیں۔اہم عہدے،اہم ذمہ داریاں سب مخصوص لوگوں کو ہی دئیے جارہے ہیں جبکہ مسلمانوں کو جھنڈا اٹھانے ،جئے جئے پکارنے اور پارٹی کوفنڈ س دینے کیلئے ہی استعمال کیاجارہاہے۔ریاست کے یوتھ کانگریس کے انتخابات میں محمد نلپاڈنے فتح حاصل کی تھی وہ بھی باضابطہ طورپر الیکشن میں ووٹ حاصل کرتے ہوئے محمد نلپاڈکی جیت ہوئی تھی،مگر کانگریس نے حکمت کا حوالہ دیتے ہوئے محمد نلپاڈ کو یوتھ کانگریس سے دوررکھا اوران کی جگہ پر رکشا رامیا کو صدر بنایاگیا۔ایک اہم اور معمولی سے عہدے پر جب کانگریس پارٹی بات نہیں کرتی ہے توعام مسائل پر کیسے بات کریگی یہ سوچنے والی بات ہے؟۔جبکہ چیتن گوڑا نامی یوتھ کانگریس کے امیدوارنےپارٹی چھوڑنے کا اعلان کیاہے،حالانکہ اس وقت انتخابات نہیں ہیں،باوجود اس کےکانگریس پارٹی میں اختلافات کا سلسلہ زور پکڑچکاہے۔
