صنعت کاروں کا 7لاکھ کروڑ قرضہ معاف: سدارامیا

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:(انقلاب نیوزبیورو):۔سابق ریاستی وزیراعلیٰ واپوزیشن لیڈر سدارامیا نے الزام لگایا ہے کہ نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد صنعت کاروں کے7/لاکھ کروڑ کا قرضہ معاف کیا گیاہے،جس میں اڈانی کی 4.5 لاکھ کروڑ کی جائیداد بھی شامل ہے۔ یہاں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سدارامیا نے یہ الزام عائد کیا اورکہاکہ کسانوں کی جانب سے صرف5ہزار روپئے کا قرضہ ادا نہیں کیاگیا تو بینک افسران ان کی جائیداد ضبط کرنے آگے بڑھتے ہیں، لیکن صنعت کاروں کی جانب سے ہزاروں کروڑوں کا قرضہ بقیہ رہنے کے باوجود خاموشی اختیارکرتے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ عالمی سطح کے معروف ماہر اقتصادیات کوشک بسو کے مطابق جب منموہن سنگھ وزیراعظم تھے ہندوستان کو اقتصادی طور پر تیزی کے ساتھ ترقی کرنے والے ممالک میں 5واں مقام حاصل تھا، لیکن اب193ممالک میں سے ہندوستان کا مقام 164تک گرگیا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ ہندوستان سے کافی پیچھے چلنے والا ملک بنگلہ دیش اب ہندوستان سے آگے نکل چکا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ 7سال میں پٹرول، ڈیزل اور پکوان گیس سے افزود 22/لاکھ کروڑ روپئے ٹیکس وصول کیاگیا ہے جس میں کرناٹک کا حصہ 1.20 لاکھ کروڑ ہے، اس لئے ٹیکس میں کمی کی جائے۔ سدارامیا نے کہاکہ نریندر مودی کا سوال ہے کہ70سال میں کانگریس نے کیا کارکردگی کی ہے، لیکن عوام کو مودی بتائیں کہ ملک کے اہم شعبہ جات کی نجکاری کس کے دورمیں ہورہی ہے اور 70سال کے دوران بنائی گئی6لاکھ کروڑ کی جائیداد کو فروخت کرنے کیا انہوں نے عوام کی اجازت حاصل کی ہے۔