الٰہ آباد:(نیوزایجنسی):۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے غنڈہ ایکٹ کی کارروائی میں افسران کی منمانی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ازدواجی تنازعہ میں درج مقدمہ میں ملزم کو غنڈہ ایکٹ کے تحت نوٹس جاری کرنے پر عدالت نے کہا کہ حکام کی جانب سے بغیر کسی بنیاد کے غنڈاایکٹ کے تحت کارروائی کا نوٹس جاری کرنا،بادی النظر میں ایک شرارتی اقدام ہے۔ عدالت نے ریاستی حکومت سے ایسی کارروائی کی تکرار روکنے کے لیے جواب طلب کیا ہے۔جسٹس ایس پی کیسروانی اور جسٹس پیوش اگروال پر مشتمل ڈویژن بنچ سون بھدر کے شیو پرساد گپتا کی دائر درخواست پر سماعت کر ر ہے تھے۔ کیس کی اگلی سماعت 9 ستمبر کو ہوگی۔درخواست میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ آفیسر سون بھدر کی جانب سے غنڈہ ایکٹ کے سیکشن 2 (b) کے نوٹس کو درخواست گزار کو چیلنج کیا گیا تھا۔ جہیز کیلئے ہراساں کرنے ، حملہ کرنے اور دھمکیاں دینے کا مقدمہ درخواست گزار کیخلاف اس کی بیوی نے درج کرایا ہے۔ اس معاملہ کو بنیاد بناتے ہوئے ضلع انتظامیہ سون بھدر نے غنڈہ ایکٹ کے تحت درخواست گزار کو نوٹس جاری کیاتھا۔عدالت نے کہا کہ نوٹس میں کوئی حقیقت نہیں ہے جو غنڈہ ایکٹ کی دفعہ 2 بی کے تحت کیس بناتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ نوٹس دائرہ اختیار کے بغیر جاری کیا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اب حکام نے ازدواجی تنازعات میں بھی غنڈہ ایکٹ کے تحت نوٹس جاری کرنا شروع کردیا ہے، یہ افسران کا ایک شرارتی اقدام ہے۔ اسی طرح کے ایک اور کیس میں بھی جب عدالت کی جانب سے شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ، توحکام نے کیس واپس لے لیا۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس معاملہ میں کئے گئے اقدامات کی اطلاع کے ساتھ ایک حلف نامہ داخل کرے۔
