گانجہ و سستی نشیلی ادویات کا نوجوان  ہورہے ہیں شکار،والدین ہوجائیں ہوشیار

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
شیموگہ:(انقلاب نیوزبیورو):۔ریاست کے شیموگہ،داونگیرے وسائوتھ کینراکے کئی علاقوں میں نوجوان نسلیں نشے کی عادت کا شکارہورہی ہیں اور یہ نوجوان بڑے پیمانے پر گانجہ،نشے کی گولیاں اور پنکچر کیلئے استعمال ہونے والے سلوشن کو استعمال کررہے ہیں اور اپنی زندگیوں کو تباہ وبرباد کرنے پر آمدہ ہورہے ہیں۔درجنوں ایسے گروہ کالجوں واسکولوں  کے قریب دیکھے جارہے ہیں جو طلباء کو ان جان لیوا و تباہ کن عادتوں میں مبتلا کرنے کیلئے پہلے مفت گانجہ وغیرہ تقسیم کررہے ہیں،بعدازاں یہ بچے نشے کے عادی بن جاتے ہیں تو انہیں بھاری قیمت پر نشہ آوار چیزیں فروخت کررہے ہیں جس سے ان کی زندگی بڑے ہی سستے اندازمیں تباہ ہورہی ہے۔گانجہ فروخت کرنے والوں میں صرف لڑکے ہی شامل نہیں بلکہ لڑکیاں بھی شامل ہیں جو کسی جال میں پھنس کر چند پیسوں کیلئے یہ چیزیں دوسروں کو فروخت کررہی ہیں۔شیموگہ،داونگیرے ضلعوں میں کئی ایسے مسلم اکثریتی پسماندہ علاقے ہیں جہاں پر خواتین خود ان نشیلی اشیاء کے ڈیلر بنے ہوئےہیں اور نوجوانوں کو اپنی جانب راغب کررہے ہیں ۔ ایسا نہیں ہے کہ ان تمام نکات سے پو لیس ناواقف ہے،بلکہ پولیس ان تمام چیزوں سے واقف رہ کربھی انجان بنی ہوئی ہے اور بعض مقامات پر پولیس خود ان کاموں کوبڑھاوا دے رہی ہے تاکہ اس سے انہیں فائدہ ہوسکے۔پچھلے دو تین سالوں سےجرائم کی شرح کا جائزہ لیاجائے تو مسلم نوجوان معمولی چوریوں کی بنیاد پر جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے جارہے ہیں۔ان نوجوانوں کی مجبوری یہ نہیں ہے کہ وہ کما کر اپنے واپنے گھروالوں کاگذارا رکریں بلکہ ان کی چوریاں صرف نشے کی اشیاء خریدنے کیلئے ہورہی ہیں۔چوری سے حاصل ہونےو الی رقومات نشہ آوار اشیاء کی خریداری کیلئے استعمال کررہے ہیں۔کچھ ماہ قبل نشے سے پاک سماج کے عنوان سے تحریک چلائی گئی تھی،جسے مختلف تنظیمیں الگ الگ نام دیکر مسائل کو حل کرنے کی کوشش کررہے تھے،لیکن یہ کوششیں کوروناکے ساتھ ہی ناپید ہوچکی ہیں۔غورطلب بات یہ ہے کہ کئی نوجوان جو تعلیم یافتہ ہیں اور کچھ تنظیموں سے جڑے ہوئے ہیں جو خود بھی گانجے کی جیسی نشہ آوار چیزوں کے عادی بنے ہوئے ہیں۔سوال یہ ہے کہ آخر والدین ان بچوں کے تعلق سے کیا کررہے ہیں،کیا وہ اپنے بچوں کو تبادہ برباد ہونے کیلئے چھوڑ رہے ہیں،یاپھر والدین کی ایسی کمزوریاں بھی رہی ہونگی جو والدین اپنے بچوں سے ہی خوفزدہ ہیں۔ماہرین کا کہناہے کہ والدین ایسے موقعوں پر اُسی وقت خاموش ہوتے ہیں جب ان کی خامیاں وبداخلاقیاں ان کے بچوں کے سامنے ظاہر ہوئی ہوتی ہیں۔اگر وہ خود بااخلاق باکردار ہوجائیں تو اپنے بچوں کی اصلاح کرسکتے ہیں۔جب بات اپنے بچوں کی اصلاح کی آتی ہے تو والدین پولیس پر منحصر نہ ہوں بلکہ خود اس سلسلے میں پیش رفت کریں۔