ٹمکور:(انقلاب نیوزبیورو):۔برقع پہننے پر پابندی عائد کرنے کی ضرورت ہے اور برقع پہننے والی خواتین پر اور ان کا ساتھ دینے والوں پر مقدمہ چلایا جائے اور انہیں جیل بھیجا جائے۔ یہ متنازعہ بیان سابق وزیرو بی جے پی کے سینئر لیڈر ایس شیونا نے دیاہے۔انہوں نے یہاں ٹمکور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برقع کی طرفداری کرنے والے طالبانی ہیں۔ انہیں پاکستان یا افغانستان بھیج دیا جائے۔ ہم وزیراعظم مودی جی سے درخواست کرتے ہیں کہ اس بارے میں فوراً ایک قانون بنایاجائے۔ برقع ہماری تہذیب کا حصہ نہیں ہے، یہ طالبان کی نشانی ہے۔بنگلور کے کے جی ہلی میں طالبان نے ہی دنگا فسادات کروائے تھے اوراس میں سابق وزیر ورکن اسمبلی ضمیر احمد خان بھی شامل ہیں، انہیں گرفتار کیاجانا چاہئے۔ بنگلور کے علاوہ ٹمکور اور دوسرے مقامات پر بھی طالبان موجود ہیں۔ ان سب ڈھونڈ کر جیل بھیجا جائے،کانگریس پارٹی میں بہت سے لوگ طالبان ہیں۔شیوناکے اس بیان پر مختلف لیڈروں اور مذہبی رہنماؤں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور برہمی ظاہرکی ہے۔ سابق ا یم ایل اے ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا کہ اس بیان سے شیونانے عورت ذات پر حملہ کیا ہے اور خواتین کے تقدس کو ٹھیس پہنچائی ہے۔پردہ اسلام کا ایک اہم حصہ ہے، لیکن کووڈ کے باعث ماسک تو لازمی قرار دیاگیا۔ اس برقع نے اس بیماری سے نجات حاصل کرنے میں اہم کردار اداکیاہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرناٹک کے مہاراجہ نالوڈی کرشنا وڈیر ریاست بھر میں لڑکیوں کیلئے الگ اسکول کھولے،مسلم لڑکیوں کو علم کی روشنی دینے کیلئے پردے میں گھر سے لانے اور لے جانے کیلئے گاڑیوں کا بھی انتظام کیا تھا۔ آپ کو چاہئے کہ ایسے اپنے ہی راجاؤں کے راستے پر گامزن ہو ں۔ایسے بیانات سے مذہبی منافرت پھیلانے کا کام مت کریں۔ غلط بیانی سے کام نہ لیں۔ آپ بیس سال ایم ایل اے رہے وزیر رہے، ایسی نفرت انگیز تقاریر آپ کیلئے شیوہ نہیں دیتیں۔ مولانا ضیاء الرحمن نے کہا کہ پردہ اسلامی نظام کا حصہ ہے،اسے کوئی بھی ختم نہیں کر سکتا۔ ہماری خواتین اپنی حفاظت کیلئے برقع پوش ہوتی ہیں۔ شہر دوسرے بے شمار ہندو مسلم لیڈروں نے کھل کر اس کی مجموعی طور پر سخت مذمت کی ہے۔
