ملازمین کسی خاص جگہ ٹرانسفر کرنے پر نہیں کر سکتے اصرار: سپریم کورٹ

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:(نیوز ایجنسی):۔سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کوئی بھی ملازم کسی خاص جگہ پر تبادلے پر اصرار نہیں کر سکتا اور آجر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ملازمین کو اپنی ضروریات کے مطابق ٹرانسفر کرے۔ سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے اکتوبر 2017 کے حکم کو چیلنج کرنے والے لیکچرر کی درخواست خارج کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ سپریم کورٹ نے متعلقہ اتھارٹی کی جانب سے امروہہ سے گوتم بدھ نگر ٹرانسفر کی درخواست مسترد کرنے کے خلاف درخواست کو کالعدم قرار دیا۔یہ بات جسٹس ایم آر شاہ اور جسٹس انیرودھ بوس کی بنچ نے 6 ستمبر کے اپنے حکم میں کہی۔ امروہہ ضلع میں تعینات خاتون ٹیچر نے ہائی کورٹ میں دائر اپنی درخواست میں کہا کہ اس نے گوتم بدھ نگر کے ایک کالج میں ٹرانسفر کی درخواست دی تھی اور اسے ستمبر 2017 میں اتھارٹی نے مسترد کردیا تھا۔ خاتون کے وکیل نے 2017 میں ہائی کورٹ میں دلیل دی تھی کہ وہ گزشتہ چار سالوں سے امروہہ میں کام کر رہی تھی اور حکومت کی پالیسی کے مطابق ٹرانسفر کی حقدار تھی۔ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ متعلقہ اتھارٹی کی طرف سے دیا گیا حکم ظاہر کرتا ہے کہ ٹیچر نے دسمبر 2000 سے اگست 2013 میں اپنی ابتدائی تقرری سے 13 سال تک گوتم بدھ نگر کے ایک کالج میں خدمات انجام دی، اسی لئے اس کی اسی کالج میں واپس بھیجنے کی درخواست سہی نہیں ہے۔