فحاشی کا قانون ہٹنے کے بعدعیاشی چھونے لگی آسمان; ناجائز تعلقات،رشتوں کی وجہ سے زندگیاں ہورہی ہیں برباد،لاک ڈائون نے کئی راز اَن لاک بھی کئے

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
شیموگہ:(انقلاب نیوزبیورو):۔بھارت کی سپریم کورٹ نے فحاشی پر مبنی انڈین پینل کورٹ کی دفعہ 497کو منسوخ کرنے کے بعد مانو کہ سماج کو عیاشی کا لائسنس مل گیاہے اور اسی قانون کا حوالہ دیتے ہوئےآئے دن بدکاریوں کے معاملات کھلے عام منظرِ عام پر آرہے ہیں۔انڈین پینل کورٹ کی دفعہ497 کےمطابق ایک شادی شدہ عورت یا مرد اپنے شوہر یا بیوی کے ہوتے ہوئےبغیر شادی کے جنسی یا جسمانی تعلقات قائم نہیں کرسکتےاور اگر ایسا ہوتاہے تو وہ مجرمانہ سرگرمی کے دائرے میں آئیگا۔دو سال قبل جب کسی کیس میں یہ معاملہ جب سپریم کورٹ کے پانچ رکنی ججوں کی بینچ میں پہنچا تو سپریم کورٹ نے یہ فصیلہ سنایاکہ کوئی عورت کسی مردکی بیوی ہوسکتی ہےلیکن وہ جائیداد یاوارثت نہیں بن سکتی،اگراس معاملے میں خاتون اپنے شوہر سے ناخوش ہے تووہ اپنے شوہر کو چھوڑ کر دوسرےمردکے ساتھ جاسکتی ہے،یہ عمل غیر قانونی تو نہیں لیکن بداخلاقی ہے،بداخلاقی ضمیر کی نگاہ میں قانون سے بڑھ کر گناہ ہے۔جن لوگوں نے اس قانون کو پڑھا یا پھر اس فیصلے سُنااور جن کا کردار اس فیصلے کو بخوشی اختیارکرنے کی اجازت دے رہاتھا،انہوں نے اس قانون کی آڑمیں عیاشیوں کا سلسلہ شروع کردیاہے۔ اندازے کے مطابق صرف شیموگہ ڈسٹرکٹ کورٹ کے ماتحت آنےو الے مختلف عدالتوں میںتقریباًدو درجن سے زیادہ معاملات پچھلے دو سالوں میں پیش آئے ہیں،جن میں شادی شدہ مرد یا خواتین شادی کے بعد دوسروں سے تعلقات رکھ کر اپنے انصاف کی تلاش میں عدالتوں کا رُخ کئے ہوئے ہیں۔یہ معاملات اُس وقت بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر منظرِ عام پر آئے جب لاک ڈائون کے دوران کئی مرد بیرونی ممالک سےواپس بھارت لوٹ آئےیا پھر لاک ڈائون کی وجہ سے مردوں یا عورتوں کا گھروں سےباہر نکلناممنوع ہوچکا تھا۔دارالقضاء،  مساجد کی کمیٹیاں اور عدالتوں میں اس طرح کے معاملات سامنے آئے ہیں،لیکن ان معاملات کو الگ الگ رنگ دیاگیاہے،تاکہ عزت بھی نہ جائے اور چھٹکارا بھی مل جائے۔بعض معاملات میں مردوں کو نامرد کہاگیاہے،تو بعض معاملات میں خواتین کو بدچلن کہہ کر انصاف کیلئے رُخ کیا گیا ہے ۔ قانون،پولیس،جیل اور عدالتوں سے بڑھ کر جہاں ضمیر ہے وہاں پر اس طرح کے واقعات نہیں پیش آسکتے۔لیکن جس طرح سے ٹی وی سریلوں اور فلموں میں ناجائز رشتوں کو بڑھاچڑھا کر فیشن کے طورپر پیش کیاجارہاہے،اُسی فیشن کو ہمارا سماج اپنانے کیلئے بھاگے جارہاہے۔اب تک غیر شادی شدہ لڑکیوں ولڑکوں کے تعلق سے اس طرح کے واقعات سامنے آرہے تھے،لیکن اب آئی پی سی کی دفعہ 497  کے منسوخ ہونے کے بعد ٹرینڈ بدل چکاہے،اب شادی شدہ جوڑوں کے معاملات سامنے آرہے ہیں۔ایک طرف اس قانون کی آڑمیں بدکاری زیادہ ہوچکی ہے تو دوسری طرف ذمہ داران ،عمائدین،علماء ونوجوانون کمیٹیاں بھی اس طرح کے واقعات کوروکنے میں ناکام ہورہی ہیں،کیونکہ جب اس طرح کی بُرائی کو روکنے کیلئے رُخ کیاجاتاہے تو سپریم کورٹ کے فیصلے کاحوالہ دیاجارہاہے اور جب معاملات پولیس تھانوں تک پہنچ جاتے ہیں تو وہاں پرپولیس خود ایسے واقعات کی تائید کرتی ہے،کیونکہ وہ نہیں چاہتی کہ مسلمان مسلم پرسنل لاء یاپھر محمڈن لاء پر قائم رہیں،بلکہ وہ عدالتی حکم کے تابیدار بن جائیں،جبکہ ہندو میاریج ایکٹ یا ہندو ایکٹ کے مطابق مرد ایک شادی ہی کرسکتاہے اور کئی رکھیلوں کو اپنے ساتھ رکھ سکتاہے،وہ غیرقانونی نہیں ہوگا۔اب497 کی منسوخی کے بعدجو حالات رونماہورہے ہیں وہ ہندوایکٹ سے ہی ملتے جلتے معاملات ہیں۔اب مسلمانوں کو طئے کرنا ہوگاکہ وہ مسلم پرسنل لاء یا محمڈن لاء پر عمل کرتے ہیں یاپھر ہندو میاریج ایکٹ کے تابیدار بن کر رہیں گے۔فحاشی کے قانون کی منسوخی کے بعد عیاشی کرنےو الوں کو فی الوقت اس کے منفی اثرات سامنے نہیں آئینگے اور انہیں اپنی غلطیوں کا احساس اُس وقت ہوگا جب گالوں پر سے چمڑی اُتر جائیگی۔