انجمن ترقی اردو ، مسائل اور حل  (3)

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر نمایاں
از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
آئے دن یہ دیکھا گیا ہے کسی بھی اردو انجمن کی بنیاد پڑھتے ہی سب سے پہلے مشاعر ے، سمینار کا انعقاد کربیٹھتے ہیں جس سے سوائے تفریح اور مدعو کردہ افراد کی ہمت افزائی کے اور کوئی بڑا کام نہیں ہوتا اور یہ سمجھا جاتاہے کہ اردو کا کام ہورہاہے ۔ پچھلے 2 عشروں سے ریاست اور ملک گیر سطح پر اردو زبان کو ختم کرنے یا کمزور کرنے کے لئے حکومتی سطح پر کس طرح سے کوششیں ہورہی ہیں یہ دانشوران اور تنظیمیں بخوبی جانتی ہیں لیکن کیا کبھی کسی نے ان مسائل کو لے کر حکومتوں سے بات کرنے کی پہل کی ہے ؟۔ کیا حق کو حاصل کرنے کے لئے عدالتوں سے رجوع کیا ہے ؟۔ایسا کہیں بھی نہیں ہورہاہے وہ اس لئے کہ اردو دانوں ، اردو کی انجمنوں اور تنظیموں نے اپنا حلقہ محدود کررکھاہے اور وسیع نظریات کا چشمہ لگانا ہی گنوارہ نہیں سمجھا گیا ہے ۔ آج بھی کئی ادویات ، ملٹی نیشنل برانڈس پر اردو میں نام لکھے ہوئے ہوتے ہیں ، کیا کسی تنظیم یا انجمن نے ایسی کمپنیوں کو ستائش کرتے ہوئے انہیں تہنیت دینے کی بات تو دور ایک خط لکھ کر پزیرائی کی ہے ۔ اردو اسکولوںمیں زیر خدمات اساتذہ کو اردو کے تعلق سے کتنے موٹیویشنل پروگرامس کیے گئے ہیں ، کتنے اساتذہ کو انکی خدمات پر سراہا گیا ہے ، مختلف محکموں میں اردو میڈیم سے پڑھ کر نوکریاں حاصل کرنے والی کی نشاندہی کرتے ہوئے انکی ہمت افزائی کی گئی ہے ۔ آج بھی معاشرے میں اردو سے تعلیم حاصل کرتے ہوئے اعلیٰ عہدوں پر فائزافسران ، پیشہ ورافراد اور تاجران موجود ہیں کیا کبھی انہیں اردو سماج سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ نہیں ہواہے اور ہماری توقع یہ ہے کہ اردو کو عام کیا جائے ۔ یہ کام اسی وقت عام ہوسکتاہے جب عام سوچ کے مطابق کام کیا جائے ، آمرانہ طرز سے اردو کی ترقی ممکن نہیں ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ سماج میں کام کرنے والے افراد کی کمی ہے ، جب کام کرنے نکلیں گے تو کارواں خود بخود بن جائیگا۔ حال ہی میں شاہین گروپس کے سربراہ عبدالقدیر صاحب نے کنڑا تعلیمی اسکولس کی فلاح و بہبودی کے لئے 25 لاکھ روپئوں کو عطیہ دیا ، اور جو کہتے ہیں کہ اردو والے کچھ نہیں کرسکتے تو انکے لئے یہ بھی مثال ہی ہے کہ شاہین کے سربراہ عبدالقدیر صاحب کی بنیاد بھی اردو زبان سے ہی ہے ، انہوںنے بھی اردو میں تعلیم حاصل کی اور اردو کے ذریعے سے ہی شاہین گروپ کو فروغ دیا ، آج وہ اردو کی بنیاد پر رہ کر دوسری زبانوں کو اتنے بڑے پیمانے پر تعاون کرسکتے ہیں تو اردو کے لئے کیوں نہیں کرسکتے ۔ بیدر میں جس مولانا آزاد سیٹلائٹ کیمپس کی بنیاد رکھی گئی ہے وہ کیمپس کو پایہ ءتکمیل تک پہنچانے میں انکی خدمات لی جاسکتی ہے کیونکہ وہ خود بھی انجمن ترقئ اردو کے ذمہ داروں میں سے ایک ہیں ۔ ریاست میں سر از نو تشکیل شدہ انجمن ترقی اردو کو مشاعروں اور سمیناروں تک محدود نہ رکھتے ہوئے عملی سرگرمیوں میں ڈھالنے کی ضرورت ہے تب جاکر انجمن کی شان میں قصیدہ پڑھا جاسکتاہے ورنہ مرثیہ ہی پڑھاجاسکتاہے ۔ نئی نسل کواردو سے جوڑنے کے لئے نئے طرز عمل کا اختیار کرنے کی ضرورت ہے اور یہ جدید فکر سے ممکن ہے ۔ ہمارے سمینار مرحومین ، ماضی اور شخصیت پرستی پر منعقد کرنے کے بجائے جدید فکر ، جدید ٹکنالوجی اور مستقبل پر مشتمل عنوانات پر منعقد کئے جائینگے تو کچھ حاصل ہوگا ورنہ مرثیہ اور قصیدے ہی پڑھے جائینگے ۔ رہی بات انجمن ترقی اردو کی ، اسکی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ اردو کے ذریعے ریاست کو جوڑیں ، دلوں کو جوڑیں نہ کہ گروہ بندی کرتے ہوئے ایرے غیروں کے سر پر تاج پہنائیں ، پہلے ہی بھارت کے لوگ دو لوگوں کی حکومت سے پریشان ہیں ایسے میں مزید پر یشانیاں کو سرپر نہ لیں ۔ ( جاری ہے )