داونگیرے :(انقلاب نیوزبیورو):۔ جعلی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والے جھوٹ کے سہارے عوام کے دلوں میں ذات پات کے نام پر نفرت کا ماحول بناکر اقد ار تک پہنچنے عوام کو بے وقوف بنانے میں جب کامیاب ہوتے ہیں تب ملک کی عوام کو پریشانیوں سے گذرنا پڑتا ہے ایسے ہی2014 میں ملک کی عوام کو بیرونی ممالک میں ہندوستانیوں کے کالے دھن کو ملک واپس لاکر ہر شہری کے اکاؤنٹ میں پندرہ لاکھ روپیئے جمع کرنے کا وعدہ جس سے ہر انسان کا گمراہ ہونا لازمی ہے ،مگر اسی نعرہ پر اقتدار حاصل ہو ا ملک کی عوام نے دیکھا کہ نوٹ بندی کی وجہ عوام کو بینکوں کے سامنے جلتی دھوپ میں اپنے پیسے بدلنے کے لئے قطارون میں کھڑے ہونا پڑا اس موقع پر کئی لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے،سالانہ دو کروڑ روز گا ر وعدہ یہ ایسے نعرے ہیں جس پر ہر کسی کو توجہ کرنی ہی پڑی اور نتیجہ آج ملک میں بے روزگا ری کی شرح میں جو اضافہ ہو ا اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کے روزگار کی بات آئی تو ملک کے وزیر اعظم نے اپنی پوری بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تعلیم یا فتہ نوجوانوں کا مذاق بناتے ہوئے انہے پکوڑے بناکر بیچنے کا مشورہ دیا ،اس سے ملک کے وزیر اعظم کی ذہنیت کا پتا چلتا ہے،جو آج آج ہمارے سامنے ہے ،جی یس ٹی لاکر ملک کی معیشت کو بربادی کے دہانے پہنچانے کا کام کیا گیا ،اس کی وجہ بہت ساری کمپنیانیوں کا دیوالیہ نکل گیا اور ملک کی حکومت جس نے عوام کو سہانے خواب جو دیکھائے تھے وہ سارے جھوٹ ثابت ہوئے عوام کی آنکھیں کھل ہی رہی تھی کہ کسانوں کے خلاف لیانڈ ریفارم ایکٹ میں ترمیم اے پی یم سی میں ترمیم وہ بھی ایک جمہوری ملک کی جمہوری طور پر منتخب حکومت اپنے آپ پر اعتماد کی کمی کہ ایوان تک میں ان مسودوں کو لاکرآرڈنینس کے ذریعہ پاس کیا گیا ،جس کی وجہ ملک کے کسان تقریبا آٹھ مہینوں سے دارالحکو مت دہلی میں احتجاج پر ہیں مگر حکومت ہے کہ جس کے نا ہی کان ہیں اور نا ہی زبان گونگی بہری ہو چکی ہے ملک کی مرکزی حکومت کے بارے ملک کا ہر شہری آج سوچنے پر مجبور نطر آتا ہے کہ ہم نے کن نعرون کا شکا ر دھوکہ کھایا ان نعرون مین کوئی سچائی ہی نہیں ہے، جمہوری طرز پر جمہوری اُصولون پر منعقد انتخابات میں کامیابی کے بعد ملک کا وزیر اعظم عوام کو پریس کے سامنے اپنی تعلیمی لیاقت پر ڈگری کی دستاویزات دکھائی کیا معنی ہوسکتے ہیں ،ملک کی عوام نے اندازہ لگا لیا ہے کہ یہ دستاویزات جعلی ہی ہیں ان نعرون کی طرح جو نعرے دوہزار چودہ میں کے عام پارلیمانی انتخابات میں لگا کرعوام کو چونا لگایا گیا، اب اس وقت ملک کے تمام سرکاری شعبہ جات کو نجی کمپنیوں کے ماتحت کرنے اور اپنے ہمنواء کارپوریٹ سے جڑے کچھ گنے چنے مالداروں کے بیچنے کا جو منصوبہ ہے اس منصوبہ کو ملک کے نوجوانوں کی یہ بڑی ذمہ داری ہے کہ ناکام بنائیں ورنہ ملک چند کارپوریٹرس کی غلامی کی زنجیروں مین جکڑ جائے گا ،یہ ملک کے لئے انگریزوںکے دور سے بھی بھیانک دور ہوگا ، آج ملک کا ہر شہری بیدار ہورہا ہے اور یہ سوچ جنم لےرہی ہے کہ بی جے پی کے معنی ہی ملک کی ترقی سے متعلق کوئی منصوبہ جس کے پاس نہیں ایساء شرانگیز گروہ ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں عوام میں ایسی سوچ پیدا ہوچکی ہے اور یوتھ کانگریس عوام کو بیدار کرنے کے کا میں خود کو مصروف رکھی ہوئی ہے،کہ دیش پہلے انگریزوں اور اب کارپویٹ شعبہ کا غلام نا ہو،ان خیالات کا اظہار ریاستی یوتھ کانگریس جنرل سکریٹری و ملت تعلیمی ادارہ جات کے نائب سکریٹری سید خالد احمد نے شہر میں آنے والے 17 ستمبر کو وزیر اعظم نریندرمودی کے یوم پیدائش کو قومی یومِ بے روزگا ر کے طور منانے اور اس سمت میں آل انڈیا یوتھ کانگریس اس دن کو قومی یومِ بے روزگار کے طور پر مناکر تمام بے روزگار و تعلیم یافتہ بےروزگار وں کی تائید میں ہزارون کانگریس کارکنان اپنے خون سے لکھے خطوط کے ذریعہ بذریعہ پوسٹ وزیر اعظم کو ان کے یوم پیدائش کی مبارک باد پیش کریگی ۔شہرکےاسلام پیٹ میں واقع کلاک ٹاور کے پاس ہیڈ پوسٹ آفس دفتر کے سامنے اسی موضوع سے معلق منعقد مہم کے موقع پر مہم میں شریک لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے ۔کیا ،اس موقع پر سابق ریشم بورڈ چیرمن ریاستی کانگریس جنرل سکریٹری ڈی بسوراج ، داونگیرے جنوب بلاک کانگریس صدر ایوب پہلوان ، ضلع کانگریس جنرل سکریٹری دنیش کےشٹی کے علاوہ پارٹی کارکنان موجود رہے۔
