داونگیرے:(انقلاب نیوزبیورو): ۔ مسجدوں پر لگے ہوئے لائوڈ اسپیکر کو ہٹانے کیلئے اقدامات اٹھائے جائینگے،اس کیلئے مسلمانوں کی جانب سے تعائون کی اُمید ہے،مسلمان تعائون کریں،یہ کارروائی سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق ہی کی جائیگی۔اس بات کااظہار رکن پارلیمان جی ایم سدیشور نے کیاہے۔انہوں نے یہاں نامہ نگاروں سے کے ساتھ تبادلہ خیال کرنے کے دوران نامہ نگاروں سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ بھارت کے اقلیتی اپنے مذہبی امورکے تعلق سے حکمرانوں کے ساتھ تبادلہ خیال کریں اورحساس معاملات میں ذمہ داری کے ساتھ کام لیں۔اگر سپریم کورٹ کے احکامات کومدِ نظر رکھتے ہوئے فوری طور پر مسجدوں سے لائوڈ اسپیکر ہٹا دئیے جائیں تو بعدمیں بی جے پی کوہی موردِ الزام ٹھہراتے ہوئے بی جے پی کو اقلیتوں کا دشمن قرار دیگا۔بی جے پی لیڈران اور کارکنان نقلی ہندوتوا کے ماننے والے نہیں ہیں،ہندوتوا کے جو اصول ہیں اُس پر بی جے پی کام کررہی ہے جبکہ کانگریس مذہبی معاملات کو سیاسی مدعوں کے طورپراستعمال کررہی ہے۔لیکن بی جے پی نے اپنے اصولوں کو ہمیشہ سے ہی اہمیت دی اور وہ اس وقت ریاست میں مضبوط پارٹی بن کر ابھری ہے۔
