شیموگہ: (انقلاب نیوزبیورو):۔علماء کی عزت کرنے سے ملت کی بقاء ممکن ہے،علماء کو خوش رکھنے کیلئے ملت کو آگے آنے کی ضرورت ہے،انہیں تنخواہ دیکر اُمت ان پر احسان نہیں کررہے بلکہ ان کی خدمات کے عوض انہیں معمولی تحفہ دے رہی ہے۔اس بات کا اظہار ریاست کے معروف عالم دین مولانااحمد سراج قاسمی فیض آبادی نے کیاہے۔انہوں نے آج یہاں کی مسجدِ رضوان میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے کہاکہ اللہ کے رسول ﷺ کے دورمیں کوئی اجتماع یا جلسہ نہیں ہواتھا بلکہ اُن کے عمومی خطابات سے ہی مسلمانوں کی اصلاح ہورہی تھی ، لیکن آج سلسلہ وار جلسے ومجالس ہور ہےہیں۔اجتماعات وجلسوں سے بڑا فائدہ نہیں ہورہا ہے بلکہ ہر جمعہ مساجدمیں جو خطبے دئیے جاتے ہیں اس سے اصلاح معاشرہ ممکن ہے اور یہ زیادہ موثر ہوتے ہیں۔اللہ کے رسولﷺ نےصرف رمضان کے مہینے کی فضیلت بیان کی تھی،بقیہ خطبے اصلاح معاشرہ پر مبنی ہواکرتے تھے۔مولانانے مزیدبتایاکہ ہمارے معاشرے میں اماموں، موذن اور معلمین کی تنخواہوں کے الگ الگ زمرے ہیں،ہونا تو یہ چاہیے تھاکہ مکتب پڑھانے والے مدرسین کو زیادہ تنخواہ دی جائے ۔ کیونکہ ان پر تعلیم دینے کی بڑی ذمہ داری ہوتی ہے اور یہی نسلوں کوتیارکرنے والے بنیا دہیں ۔ امام،موذن وعلماء کےمسائل کو حل کرنےکی ذمہ داری صرف کمیٹیوں کی نہیں ہے بلکہ عام مصلیوں و مسلمانوں کی بھی ذمہ داری ہے،اگر مسجدوں یا مدرسوں میں تنخواہیں کم دئیے جاتے ہیں تو مصلی یا عام مسلمان بھی ان علماء کی مددکرسکتے ہیں۔مولانا احمد سراج نے مزیدبتایاکہ جب تک ہمارے دینی ادارے آزادرہتے ہیں اُس وقت تک حکومتیں کوئی ضررنہیں پہنچاسکتی ۔ حال ہی میں اترپردیش حکومت نے پانچ ہزار مدرسوں کوبندکرنے کے احکامات جاری کئے ہیں،چونکہ یہ مدرسے حکومت کے تعائون سے چلائے جارہے تھے اس لئے انہیں حکومت کی بات ماننی ہی ہوگی ، حکومتیں آتی ہیں چلتی جاتی ہیں،لیکن اُمت تاقیامت تک رہنے والی ہے ، اس لئے اُمت کو چاہیے کہ وہ اپنے دینی اداروں ومساجد کو حکومتوں کی تحویل میں نہ دیں اور ان کابھر پور ساتھ دیں۔اس موقع پرمسجدِرضوان میں پچھلے 18 سالوں سے خدمات انجام دینے والے قاری عبدالطیف مظہری کےامامت کے فرائض سے سبکدوش ہونے پر مسجدِ رضوان کمیٹی کی جانب سے اعزازی سند دی گئی اور ان کی خدمات کااعتراف کرتے ہوئے کہاگیاکہ آپ نے نصف صدی تک امامت کے منصب پر فائزرہ کر بے لوث خدمات انجام دیتے رہے اور شیموگہ شہرکی مرکزی مدنی مسجد،کڑیکل کی جامع مسجد،کڑور کی جامع مسجد اور مسجدِ رضوان میں خدمات انجام دی،اُس دوران امامت کے علاوہ درس و تدریس کے فرائض بھی انجام دئیے ،جس کی وجہ سے ہزاروں طلباء فیض حاصل کئے ہوئے ہیں۔مسجدکمیٹی نے سبکدوش ہونے والےقاری عبدالطیف کو تہنیت بھی پیش کی۔
