شیموگہ:(خصوصی رپورٹ مدثراحمد):۔ملک بھر میں اس وقت مسلم علماء کی گرفتاریاں ہورہی ہیں،آسام میں مسلمانوں پر تشدد ہورہاہے،یوپی بہار اور دہلی میں سلسلہ وار مسلمانوں پر ظلم وستم ہورہے ہیں۔لیکن کانگریس پارٹی کے سربراہان راہل گاندھی،سونیا گاندھی ،پرینکا گاندھی سمیت سینئر لیڈران ان معاملات پر ایک لفظ کہنا گوارا نہیں سمجھ رہے ہیں اور ایسا محسوس کیاجارہاہے کہ کانگریس پارٹی اب مسلم مسائل سے علیحدگی اختیارکرتے ہوئے خالص رولنگ واپوزیشن جماعت کی سیاست کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ پچھلے پارلیمانی انتخابات کے دوران ہی راہل گاندھی نے سافٹ ہندتواکی تائیدکی تھی اور مسلمانوں کو اہمیت دینا چھوڑدیاتھا۔اس کے بعد کے حالات مسلسل اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ کانگریس پارٹی کواب مسلمانوں کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور نہ ہی وہ مسلمانوں کو پارٹی میں اہمیت دینے کی چاہ رکھتی ہے۔پارٹی کے کئی سینئر لیڈروں کو کانگریس نے سائڈ کردیا اور جس نے مسلمانوں کیلئے آواز اٹھائی انہیں خاموش رہنے کی تاکیدکی۔مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری ہو یا پھر مولانا گوتم عمر کی گرفتاری یا پھر رابعہ سیفی کی اجتماعی عصمت دری،ان تمام معاملات پر کانگریس پارٹی نے خاموشی اختیارکی ہوئی ہے اور اپنے کارکنوں کو ہندتواکے ایجنڈے پر کام کرنے کیلئے کہاہے۔یہاں تک کہ اب کانگریس کے کئی لیڈران اپنے روایتی لباس جس میں نہرو ٹوپی،کانگریس کی شال کا استعمال کرنے کے بجائے باقاعدہ کیسری شال استعمال کرنے لگے ہیں۔پچھلے سال جب بابری مسجد کافیصلہ منظر عام پر آتے ہوئے ایودھیا میں رام مندرکی تعمیر کیلئے عدالت نے فیصلہ سنایاتوکانگریس کے گروہوں نے عدالت کے فیصلے کا استقبال کیا اور مٹھائیاں تقسیم کی اور ساتھ ہی ساتھ جشن بھی منایا۔اس سے یہ بات واضح ہوچکی تھی کہ کانگریس اب پوری طرح سے مسلمانوں پر منحصرنہیں ہے بلکہ مسلمان ہی اب بھی کانگریس کو اپنا مسلک مان رہے ہیں اور کانگریس کے علاوہ ان کے پاس کوئی آپشن نہیں ہے۔جس طرح سے بھارت میں مودی اور بی جے پی کی مخالفت کرنےو الوں کو دیش دروہی کہاجاتاہے اسی طرح سے کانگریس نے مسلمانوں کی اس طرح سے ذہن سازی کررکھی ہے کہ اگر مسلمان کانگریس کے خلاف جاتے ہیں تو وہ بی جے پی کے ایجنٹ بن جاتے ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ کانگریس پارٹی نے مسلمانوں کے ساتھ دل سے نہ سہی دکھائوے کیلئے تو وفا کی تھی،مگر اب راہل گاندھی کے دورمیں کانگریس پارٹی کھلم کھلا مسلمانوں سے کنارہ کشی کررہی ہے۔
