یہ کونسے مسلمان ہیں!!!!

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر نمایاں

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
اس وقت ہرطرف اس بات کا چرچہ چل رہا ہے کہ نوجوان نسلیں نشہ خوری کے عادی ہوتے جارہے ہیںاور ان نوجوانوں کو روکنے والانہیں ہے۔ کچھ سال پہلے تک مسلمانوں کے یہاں شراب نوشی کرنے والے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ تھی، لیکن اب وقت کے ساتھ ساتھ نشے کی کیٹیگری میں بھی تبدیلی آنے لگی ہے۔ پہلے نوجوان پنکچر کیلئے استعمال ہونے والاسلوشن بطور نشہ استعمال کرتے تھے، پھراسکے بعد ویکس، امروتنجن اور پیٹرول کا استعمال کیا جانے لگا اب حالات کچھ ابگیرڈ ہورہےہیں ۔ یہ نسل 4جی بن چکی ہے انکے پاس نشے کی اشیاء کا معیار بھی بدل چکا ہے۔ اسلام میں نشے کو لیکر بہت ہی سختی سے ممانعت ہے۔اللہ کے رسول ﷺ نے بھی ہر اس نشہ آورچیز کو حرام قرار دیا ہے جو نشہ دیتی ہے۔ باوجود اسکے آج مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ اس نشے کی عادت میں ملوث ہوچکا ہے۔ ایک طرف مسلمانوں کو یہ کہا جارہا ہے کہ تم راہ راست پر آئو وہیں دوسری جانب نشہ کرنے والوںکے تعلق سے کوئی کچھ نہیں کہہ رہا ہے۔ نہ انفرادی نصیحتیں ہورہی ہیں نہ اجتماعی طورپر لوگوں کو راہ راست پرآنے کی بات کہی جارہی ہے۔ اہل علم اپنی روایتی باتوں اورطریقوں کو چھوڑ کر آگے بڑھنانہیں چاہتے۔ حالانکہ حضورﷺ نے فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز تھوڑی یا زیادہ مقدار میں وہ حرام ہےاوراسی طرح ہر وہ مشروب جس سے نشہ ہوتا ہے ایک طرف مسلمان اس بات کا دعویٰ کرتےہیں کہ ہم آقا نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے اُمتی ہیںانکے بتائے ہوئے طریقوں پر چلنے والے ہیں، سنتیں ہمارے لئے جان سے عزیز ہیں،اپنی زندگی کو نبی ﷺ کا صدقہ کہنے والے مسلمانوں نے شاید ہی نشے سے پاک قوم کی تشکیل دینے کیلئے پیش رفت کرتے۔ گن کر بتائیں کے آپ کی اورہماری زندگی میں کتنی دفعہ مسلمانوں نے شراب کی دکانوں کا بند کروانے کیلئے حکومتوں اور افسروں سے رجوع کیا ہے اورکتنی دکانوں کو شراب فروخت کرنے سے روکا گیاہے۔ آج مسلمانوں کے کئی بچے نشہ خوری کے عادی ہوچکے ہیں ، انہیں راہ راست پر لانے کیلئے نہ خودانکے ماں باپ سنجیدہ ہیں نہ ہی امتیں مسلمہ کو اس پر کوئی دلچسپی نظرآتی ہے۔ جب ہم یہ کہتے ہیںکہ آقاکا دامن نہیں چھوڑیں گےتو اورنہ ہی سنت رسول کو نظرانداز کریںگے۔ اس دعویداری کے بعد بھی آقا کی بتائی ہوئی حدیث مبارکہ اورحکم کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ انکے محلوں میں شراب دکانیں موجودہیں۔ کبھی بھی انہیں اس تعلق سے میمورنڈم دیتے ہوئے نہیں دیکھا گیا کہ شراب کی دکانوں کو ہٹایا جائے۔ کہنے کو تو مسلمانوں کے پاس ملی،ومذہبی تنظیموں کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن ہر تنظیم وادارہ اپنے آپ میں مست ہوچکا ہے۔ کیا انکی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ نوجوانوں کو گانجہ، افہیم ودیگر نشہ آوراشیاء سے تحفظ فراہم کریں؟۔ افسوسناک بات تو یہ بھی ہے کہ کچھ تنظیمیں اورشخصیات ایسے بھی ہیں جو نشے کے عادی ان نوجوانوں کو اپنی ضرورتوں کیلئے استعمال کرتے ہیں اور ان نوجوانوں کی سرگرمیوں کو ایک طرح سے بڑھاوا دیتے ہیں ۔ دیکھا گیا ہے کہ اکثرنوجوانوں کو جب نشے کی عادت کے الزام میں یا خریدوفروخت کے الزام میں پولیس انہیں تحویل میں لیتی ہے تو ہماری تنظیموں کے ذمہ داران انہیں پولیس کے چنگل سے نکالنے کیلئے پشت پناہی کرتے ہیںاوران نوجوانوں کو ذاتی مفادات کی خاطر استعمال کرتے ہیں۔ اگر واقعی میں مسلمان اپنی نسلوں کو نشہ خوری کی سرگرمیوںکو بچانا چاہتے ہیں تو انہیں اس سلسلے میں سخت اقدامات اٹھانے ہوںگے ورنہ یہ نوجوان دھویں میں اڑ جائیںگے۔