باگل کوٹ: ٹیوشن کلاس میںٹوپی پہننے کے معاملے کو لے کر طلباء کے درمیان ہونے والی معمولی جھگڑے نے فرقہ وارانہ تشدد کی شکل اختیار کرنے کا معاملہ باگل کوٹ ضلع کے الکل شہر کے عالم پیٹھ میں پیش آیا ہے۔ ریان نامی نویں جماعت کا طالب علم، ٹوپی پہن کر ٹیوشن جایا کرتاتھا۔جسے اسکے ہی ساتھ اکثر طلبہ چڑھایا کرتے تھے۔ متاثرہ طالب علم نے اس سلسلے میں اپنے دیگر ساتھیوں کو اطلاع دی جس کے بعد متاثرہ ریان اور حریف ساتھیوں کے درمیان مارپیٹ ہوئی جس میں 5 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ دوکمیونٹی کے طلباء کایہ جھگڑا دوتنظیموں کے جھگڑے میںبد ل گیا۔ ایک طرف پاپولرفرنٹ آف انڈیا کے لوگ تھے دوسری طرف ہندوادی تنظیم کے افرادتھے۔ زخمی تین نوجوانوں کو مقامی اسپتال میں علاج کیلئے داخل کیا گیا ہے۔ ان میں محمد گلید گڈہ(18) سمیربلگانور(20) ساحل پٹنگلی(19) زیر علاج ہیں۔ رمیش اداپور، انیل کجل مٹی، مہیش ، ناگیش نامی افراد نے ان مسلم طلباء پر حملہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں منجو نامی شخص نے زخمی مسلم نوجوانوں کو جان سے مارنے کی دھمکی دی ہے اورکہا ہے کہ میرا نام اگر ایف آئی آر میں آتا ہے تو تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ اس سلسلے میں باگل کوٹ پولیس ایس پی لوکیش بھرمپا نے اطلاع دی ہےکہ ٹیوشن میں ٹوپی پہننے کے معاملے کو لے کر یہ تشدد پیش آیا ہے۔ اس سلسلے میں دونوں فرقوں کے نوجوان زخمی ہوئے ہیں۔ ملزمان کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔ انہیں عدالتی تحویل میں بھیجا گیا ہے۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ضلع کے ایس پی جگ سالکر نے بتایا کہ ہم نے دونوں فرقہ کے لوگوں کے خلاف کیس درج کرلیا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ ہم ان لوگوں کو بھی گرفتار کریںگے جنہوں نے اسپتال میں لوگوں کو دھمکی دی تھی جس کا ویڈیو وائرل ہورہا ہے۔
