جلوسِ محمدیﷺ کیلئے اجازت نہیں،سوشیل میڈیا پرافواہ

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔کوویڈ 19 کے لاک ڈائون کی وجہ سے پچھلے دو سالوں سے تمام عیدین اور میلاد النبیﷺکے موقع پر جلوسِ محمدیﷺکو عالیشان پیمانے پر منانے یا منعقدکرنے سے حکومت کی جانب سے پابندی رہی ہے۔امسال کوروناکے حالات بہتر ہونے کے باوجود میلاد النبیﷺکےجلوس کیلئے ریاستی حکومت نے اجازت نہیں دی ہے۔جلوس کیلئے اجازت نہ دینے کے باوجود سوشیل میڈیا میں یہ افواہ پھیلائی جارہی ہے کہ اس دفعہ عیدمیلادکے موقع پر جلوس نکالنے کیلئے اجازت دی جاچکی ہے اور بعض آڈیوز میں یہ کہا جارہا ہےکہ اجازت لینے کیلئے کوششیں جاری ہیں،مگرریاستی حکومت یا ضلع انتظامیہ کی جانب سے اس بات کی تصدیق ہوچکی ہے کہ اس دفعہ بھی جلوسِ محمدی ﷺنکالنے کیلئے اجازت نہیں ملے گی۔اس سلسلے میں ریاستی وقف بورڈنے بھی ایک سرکیولر جاری کرتے ہوئے کہاکہ کوویڈکےپیش نظر امسال عیدمیلاد کا جلوس نہیں رہے گا اور یہ تقریب نہایت سادگی کے سامنے منائی جائیگی۔تمام محلوں میں جو جلسے منعقدکئے جائینگے وہاں پر سب سے زیادہ افرادکی اجتماعی شرکت نہ ہو۔دوسری جانب ملّی وسماجی تنظیمیں اس بات سے برہم ہیں کہ کیایہ قوانین سیاسی اور انتخابی جلسوں کیلئے نافذ نہیں کئے جاسکتے؟۔کیونکر صرف مذہبی جلسوں و تہواروں کے موقعوں پر قوانین نافذ کئے جاتے ہیں؟پچھلے تین مہینوں میں ریاست کے مختلف علاقوں میں جو انتخابات ہوئے ہیں اُن میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی تھی،اُس وقت ان قوانین کو کیوں نافذنہیں کیاگیاتھا۔عوام کی طرف سے یہ بھی سوال پوچھاجارہا ہے کہ جب ریاست میں کوروناکے مریضوں کی شرح میں کٹوتی آرہی ہے تو کس وجہ سے کوویڈکے قوانین کو اب بھی بحال رکھاگیاہے۔ان تمام سوالوں کے جوابات تو اس وقت دینے سے حکومت قاصرہے ، لیکن حکومت کی طرف سے جلوس وجلسو ں کے موقعوں پر لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے تیاریاں شروع ہوچکی ہیں۔بعض ماہرین کا کہناہے کہ اگر مسلمان زبردستی جلوس نکالنے کی کوشش کرتے ہیں توان کے خلاف کارروائی کرنے کی کوشش کی جائیگی یا پھر شرپسندوں کو سامنے رکھ کر انتشارپھیلانے کی کوشش ہوگی۔وہیں شیموگہ سمیت مختلف علاقوں میں جلوسِ محمد یﷺکی نامنظوری کے بعد نوجوان و بچے اپنی اپنی گلیوں میں سجاوٹ کررہے ہیں اور پوری کوشش میں لگے ہوئےہیں کہ کم ازکم محلوں میں مسجدوں تک جلوس نکالاجائے۔