شیموگہ :۔ڈی سی سی بینک سال 2020-21 میں ڈپازٹ ، قرضوں کی تقسیم اور منافع کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔اس بات کا اظہار ڈسی سی بینک صدر ایم بی چناویرپا نے کیا ہے۔ انہوں نے آج ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ بینک نےمارچ 31 تک درج کئے ریکارڈ کے مطابق ڈیپازٹ جمع کرنے کیلئے رکھے گئے ٹارگیٹ کو پورا کردیا ہے۔ ایک لاکھ روپے میں ریکارڈ جمع کیا تھا۔ لیکن 1077.72 کروڑ روپئے ڈیپازٹ جمع کیا گیا ہے ۔ بینک کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہےجس میں بینک نے 20.35 کروڑ روپے کا مجموعی منافع اور 15.65 کروڑ روپے کا خالص منافع حاصل کیاہے۔ یہ بھی ایک ریکارڈ ہے۔ اسی طرح فصل لون کی وصولیابی کیلئے 99.55 ہوئی ہے۔اسطرح بینک اپنے تمام اخراجات کو نکالنے کے بعد ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ بینک نے موجودہ سال میں 98070کسانوں کیلئے جملہ92.793کروڑ قرضہ جاری کیا ہے۔ اس میں 9546کسانوں سے 43.102 کروڑ روپئے کسانوں کو فصلوں کا لون دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اضافی 31832 کسانوں کو 166 کروڑ فصلوں کے قرضے بھی فراہم کیے گئے ہیں۔ ریاستی حکومت کی سود معافی اسکیم 262 کسانوں نے 561.87 لاکھ روپے سود معاف کیا گیا ہے۔ بینک نے 2408 غیر سرکاری تنظیموں کو 85.99 کروڑ کا قرض دیا ہے اور اس کی وصولیابی بھی 99.32 فیصد ہے۔ کایکا منصوبے کے تحت 44 گروپوں سے 75.320 لاکھ روپئے کا قرضہ تقسیم ہونے کی تفصیلات پیش کی گئی ہے۔ مرکزی منصوبوں کے تحت دودھ کاشتکارکوآپریٹیو اراکین کیلئے صفر فیصد سود پر 790 اراکین سے جملہ 84.105لاکھ روپئے کا قرضہ دیا گیا ہے۔ اسی طرح قریب 9550 کسانوں کیلئے 10.321 کروڑ کا قرضہ دیا گیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ بینک 1953 میں قائم ہوا ہے ، ضلع سطح پر اس بینک کی 28 شاخیں پھیلی ہوئی ہیں اور 769 کوآپریٹیو سوسائٹیاں قائم ہیں۔ 172 زرعی شاخیں ہیں ، بینک کا سرمایہ سال درسال بڑھتا ہی جارہا ہے۔31 مارچ تک درج کئے گئے اعداد و شماریات کے مطابق 48.161356لاکھ تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسطرح بینک ترقی کی راہ پر کچھ لوگوں کا ماننا تھا کہ بینک کا دوالیہ ہوچکی ہے لیکن ایسا ماننے والوں کیلئے ہم نے اچھا جواب دیا ہے۔ پریس کانفرنس میں بینک کے نائب صدر ایچ ایل شڈاکشری، ڈائریکٹرشریپاد رائیر، جے پی یوگیش گوڑا، ایس پی دنیش، جی این سریش، کے پی دگپا گوڑا، پرمیشور وغیرہ موجودتھے۔
