دہلی: پیغمبر اسلامؐ کی شان میں نازیبا کلیمات ادا کرنے والی بی جے پی کی معطل شدہ ترجمان نوپور شرما کو سپریم کورٹ نے سخت پھٹکار لگائی ہے۔ سپریم کورٹ نے نوپور شرما کو پورے ملک سے معافی مانگنے کو کہا ہے، ساتھ ہی عدالت نے کہا ہے کہ ادے پور میں جو المناک واقعہ پیش آیا ہے وہ بھی نوپور شرما کے بیان کی وجہ سے پیش آیاہے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ انہوں نے اور ان کی ہلکی زبان نے پورے ملک میں آگ لگا دی ہے۔۔ملک کی سب سے اعلیٰ عدالت نے ادے پور میں کنہیا لال قتل کے لئے بھی نوپور شرما کو ذمہ دار ٹھہرایا۔واضح ہوکہ بی جے پی کی سابق قومی ترجمان نوپور شرما کے پیغمبر اسلام پر متنازعہ بیان کے بعد ملک بھر میں کئی پرتشدد واقعات ہو رہے ہیں۔حال ہی میں راجستھان کے ادے پور میں کنیہا لال نامی ٹیلر کے قتل کا معاملہ بھی اس سے جڑا تھا۔ جس کے بعد اب سپریم کورٹ نے نوپور شرما کی سخت سرزنش کی ہے۔ اس کے علاوہ دہلی پولیس کو بھی عدالت نے پھٹکار لگائی ہے۔سپریم کورٹ نے نوپور شرما سے کہا کہ آپ کی وجہ سے پورے ملک کا ماحول خراب ہو گیا ہے اور آپ نے معافی مانگنے میں کافی دیر کی ہے۔سپریم کورٹ نے نوپور شرما سے کہا کہ آپ خود کو وکیل کہتی ہیں پھر بھی آپ نے غیر ذمہ دارانہ بیان دیا۔ سپریم کورٹ نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ طاقت کا زور دماغ پر حاوی نہیں ہونا چاہیے۔یہی نہیں سپریم کورٹ نے اس ٹی وی چینل کو بھی پھٹکار لگائی، جس کی بحث میں نوپور شرما نے متنازعہ بیان دیا تھا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ اگر چینل کے اینکر نے اشتعال انگیزی کی تو ان کے خلاف مقدمہ کیوں درج نہ کیا جائے؟نوپور پر طنز کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا، آپ کی وجہ سے ملک کی حالت خراب ہوئی ہے۔ آپ نے تاخیر سے معذرت کی، وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ اگر کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہو تو بیان واپس لیتا ہوں۔عدالت نے دہلی پولیس کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ اگر نوپور کے خلاف پہلی ایف آئی آر دہلی میں درج ہوئی تو اس پر کیا کاروائی ہوئی؟ اس دوران نوپور شرما کے وکیل منیندر سنگھ نے کہا کہ ٹی وی پر کچھ دیگر پینلسٹ بار بار شیولنگ کے بارے میں توہین آمیز باتیں کہہ رہے تھے۔نوپور کا کسی مذہب کی توہین کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ وکیل نے کہا کہ اگر عدالت کا یہی موقف رہا تو اظہار رائے کی آزادی سلب ہو جائے گی۔ جس پر عدالت نے جواب دیا کہ اس آزادی سے ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔جب وکیل نے صرف ایک ایف آئی آر کو درست ماننے کی بات کی تو عدالت نے کہا کہ آپ یہ معاملہ ہائی کورٹ میں رکھ سکتے ہیں۔ آپ ہر معاملے میں ٹرائل کورٹ سے ضمانت مانگ سکتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ دہلی میں درج ایف آئی آر میں کیا ہوا؟ شاید پولیس نے آپ کے لیے سرخ قالین بچھا دیا ہے۔سپریم کورٹ نوپور شرما کی درخواست کا جواب دے رہی تھی جس میں ان کے خلاف درج تمام ایف آئی آر دہلی منتقل کرنے کی مانگ کی گئی تھی۔ نوپور شرما کے وکیل نے کہا کہ انہیں دھمکیوں کا سامنا ہے۔جسٹس سوریہ کانت نے کہا، "انہیں دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے یا وہ سلامتی کے لیے خطرہ بن گئی ہے؟ اس نے جس طرح سے پورے ملک میں جذبات بھڑکائے ہیں۔ ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی ذمہ دار یہ خاتون اکیلی ہے۔”عدالت نے کہا کہ ان کے ریمارکس سے ان کا ’مضبوط اور متکبرانہ کردار‘ ظاہر ہوتا ہے۔ جسٹس سوریہ کانت نے کہا، "اگر وہ کسی بھی پارٹی کی ترجمان ہیں تو کیا ہوگیا؟ انہیں لگتا ہے کہ ان کے پاس طاقت کا بیک اپ ہے اور وہ ملک کے قانون کا احترام کیے بغیر کوئی بھی بیان دے سکتی ہیں۔” ان کے وکیل نے جواب دیا کہ انہوں نے ٹی وی پر بحث کے دوران صرف اینکر کے ایک سوال کا جواب دیا تھا۔سپریم کورٹ کی دو ججوں کی بنچ نے کہا کہ نوپور نے ٹیلی ویژن پر آکر ایک خاص مذہب کے خلاف اشتعال انگیز تبصرہ کیا۔ اس پر انہوں نے شرائط کے ساتھ معافی مانگی، وہ بھی اس وقت جب ان کے اس بیان پر لوگوں کا غصہ بھڑک اٹھا تھا۔ اب معافی مانگنے کی دیر ہو چکی ہے۔عدالت کی سرزنش کے بعد نوپور شرما کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل منیندر سنگھ نے کہا کہ نوپور نے اپنے بیان پر معافی مانگ لی ہے اور انہوں نے اسے واپس بھی لے لیا ہے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ ٹی وی پر آکر پورے ملک سے معافی مانگیں۔ اس کے ساتھ عدالت نے نوپور کے خلاف درج تمام مقدمات کو دہلی منتقل کرنے سے انکار کر دیا۔متنازعہ بحث اور دہلی پولیس کو دکھانے والے ٹی وی چینل کی سرزنش کرتے ہوئے عدالت نے کہا، ‘دہلی پولیس نے کیا کیا؟ ہمیں منہ کھولنے پر مجبور نہ کریں۔ ٹی وی پر بحث کیا تھی؟ اس سے صرف ایک ایجنڈا طے کیا جا رہا تھا۔ اس نے ایسے معاملے کا انتخاب کیوں کیا جس پر عدالت میں کیس چل رہا ہے۔ دراصل نوپور کے خلاف دہلی، کولکتہ، بہار سے لے کر پونے تک کئی کیس درج ہیں۔نوپور نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرکے مطالبہ کیا تھا کہ ان کے خلاف مختلف ریاستوں میں درج تمام مقدمات کو دہلی منتقل کیا جائے۔ درخواست میں نوپور نے کہا تھا کہ انہیں مختلف ریاستوں سے مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔عدالت نے سخت ریمارکس کے ساتھ نوپور کی درخواست کو خارج کر دیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ کیا آپ کو یہاں ریڈ کارپٹ رکھنا چاہئے؟ جب آپ کسی کے خلاف شکایت کرتے ہیں تو اس شخص کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ آپ کے غلبے کی وجہ سے کوئی آپ کو ہاتھ لگانے کی جرات نہیں کرتا۔سپریم کورٹ نے کہا نوپور شرما کے پیغمبر کے خلاف ریمارکس یا تو سستے پروپیگنڈے، سیاسی ایجنڈے یا کچھ مذموم سرگرمیوں کے لیے کیے گئے تھے۔ وہ مذہبی لوگ نہیں ہیں اور صرف اشتعال دلانے کے لیے بیان دیتے ہیں۔ ایسے لوگ دوسرے مذاہب کا احترام نہیں کرتے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم نے دیکھا کہ نوپور نے بحث کے دوران کیسے اشتعال انگیز بات کی، اس کے بعد بھی وہ کہتی ہیں کہ میں وکیل ہوں۔ یہ شرمناک ہے. نوپور کو پورے ملک سے معافی مانگنی چاہیے۔سپریم کورٹ نے کہا یہ پٹیشن آپ کے تکبر کو ظاہر کرتی ہے۔ آپ لوئر کورٹ کے بجائے سیدھے سپریم کورٹ چلی آئیں۔ ملک بھر کی مجسٹریٹ عدالتیں آپ کے لیے چھوٹی ہیں۔
