بھدراوتی ؛ کانگریس کے سنگھا ہوتے ہوئے بھی مسلم نوجوانوں کے خلاف سوموٹو کیس 

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
بھدراوتی :۔ پچھلے دنوں میلاد النبی ﷺ کے جلوس کے موقع پر کچھ نوجوانوں نے سنگھ پریوار کے خلاف نعرے بازی کی تھی جس کی بنیاد پر بھدراوتی پولیس تھانوں  میں نوجوانوں کے خلاف پولیس نے سوموٹو یعنی رضاکارانہ طورپر مقدمہ درج کرتے ہوئے کئی نوجوانوں کو تحویل میں لیا گیا ہے جبکہ بھدراوتی میں رکن اسمبلی کانگریس پارٹی سے ہیں اور انہیں یہاں کی عوام کافی مانتی ہے باوجود اسکے پولیس کی جانب سے مسلم نوجوانوں پر سوموٹو کیس درج کرلینا مضحکہ خیز مانا جارہاہے ۔ دراصل میلاد کے دن کچھ مسلم نوجوانوںنے آریس یس کو گالیاں دی تھی اور ان گالیوں کی ویڈیو سوشیل میڈیاپر تیزی کے ساتھ گردش کرتے ہوئے یہاں کی عوام میں بحث کا موضوع بن چکی تھی ، اسکے بعد پولیس نے میلاد النبی کے موقع پر کووڈ قوانین کو پامال کرنے ، شرپھیلانے اور جذبات کو مجروح کرنے کے الزام میں خود مسلم نوجوانوں پر مقدمہ درج کرتے ہوئے کچھ نوجوانوں تحویل میں لیا گیا ہے ، جبکہ انجمن اصلاح المسلمین کے صدر مرتضی خان ، صاب جان ، امیر جان کے خلاف جلوس کی قیادت کرتے ہوئے کورونا قوانین کو پامال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے مقدمہ درج کرلیا گیا ہے ۔ مقامی لوگوں کا سوال ہے کہ جب شہر میں رکن اسمبلی کانگریس کے تھے اور انہوںنے جلوس کی تائید بھی کی تھی اور ہمیشہ یہاں کے مسلمان انہیں اپنا سیاسی رہنماء مانتے ہیں تو کیسے پولیس کو سوموٹو کیس کرنے سے روکا نہیں گیا ؟۔