بنگلورو:۔کرناٹک میں ہندوتوا تنظیموں کی من مانی بڑھتی جارہی ہے۔ ان تنظیموں نے ریاست میں فرقہ وارانہ تشدد کو تیز کر دیا ہے۔ پچھلے دو ماہ میں اقلیتوں پر حملے اور توڑپھوڑکے واقعات میں اضافہ ہواہے۔17/اکتو بر کو بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد کے کارکنوں نے ہبلی کی ایک چرچ میں زبردستی داخل ہوکر مذہب تبدیل کرنے کا الزام لگاتے ہوئے چرچ کے پادری سمیت کئی لوگوں کو پیٹاہے۔اسی طرح بلگائوی کے مضافاتی علاقے میں مسلم جوڑے کی پیٹائی کی گئی اور اس جوڑے کو شہرچھوڑنے کی دھمکی دی گئی،اس کے بعد باگلکوٹ میں 14 سالہ مسلم لڑکے پر15 ہندوتواوادی شرپسندوں نے محض اس وجہ سے حملہ کیاکیونکہ اُس مسلمان بچے نے ٹوپی پہن رکھی تھی۔ جب دوسرے مسلمان ہم جماعت مدد کے لیے آگے آئے تو انھی ں بھی زود کوب کیا گیا۔ متاثرین نے الزام لگایا کہ حملہ آوروں نے دھمکی دی کہ اگر پولیس میں شکایت کی گئی تو ان پر چاقو سے وار کیا جائیگا۔اے بی وی پی، وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے کارکنان کی جانب سےمنگلوروکے سینٹ الائسس کالج کو دھمکیاں دی گئی ہیں کہ اگر کسی کیمپس کانام پادری اور قبائلی کارکن ا سٹان سوامی کے نام پر رکھاجاتاہے تو اس سے ناخوشگوار واقعہ ہو سکتا ہے۔جنوبی کینراکے پتور میں ایک خاتون کے دو ساتھیوں کو اُس وقت پیٹا گیاجب وہ عدالت سے اپنی گاڑی پتور گئی تھی ،اس دوران اپنے دو ساتھیوں – شیوا اور محمد عرفات کو اپنے ساتھ لے گئی تھی۔ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق ان تینوں پر 20 ستمبر کو حملہ کیا گیا۔ عورت کے ساتھ بدسلوکی گئی اور ایک مسلمان سے بات کرنے پر شیوا پر حملہ کیا گیا۔ایک پرائیویٹ میڈیکل کالج میں زیر تعلیم مختلف مذاہب کے 6طلباء پر بجرنگ دل کے ارکان نے اس وقت حملہ کیا جب وہ ملپے بیچ پر گئے تھے۔ایک اردو اخبار میں کام کرنے والے محمد صفدر قیصر پر 16 ستمبر کو اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ میسورو میں ایک مندر کے انہدام کے خلاف احتجاج کی کوریج کر رہے تھے۔کرناٹک کے منگلورو میں تین ہم جماعت ایک دوسرے سے بات کر رہے تھے کہ بجرنگ دل کے دو ارکان موٹر سائیکل پر آئے اور انہیں گھیر لیااور اسے زدوکوب کیاگیا۔9/ اکتوبر کو موڈبدری کے مضافات میں پیش آیا،جس میں ایک مسلم نوجوان کو ایک ہند وعورت کے ساتھ بات کرنے پر دھمکی دی گئی تھی۔بلگائوی میں24 سالہ ارباز ملا نامی نوجوان کو ہندو لڑکی کے ساتھ بات کرنے پر موت کے گھاٹ اتاراگیا،جس کے الزام میں شری رام سیناکے کارکنان کو گرفتارکیاگیاہے۔ریاست میں حالات بدستور خراب ہوتے جارہے ہیں،لیکن وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی ہو یا محکمہ پولیس حالات کوبہتر بنانے کے بجائے مزید ہندوتوا تنظیموں کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔جس کی وجہ سے ریاست میں قانونی نظم ونسق بُری طرح سے متاثر ہورہاہے او ر کرناٹک کو یوپی سے بہار سے تشبیہ دی جارہی ہے۔
