دہلی : پونے میں واقع سیرم انسٹیٹیوٹ آف انڈیا کے سی ای او ادار پونیوالانے کہا کہ ان کی کمپنی نے کووی شیلڈ ویکسین کے پروڈکشن اور ڈسٹریبیوشن کیلئے دس ہزار کروڑ روپے خرچ کئے ہیں ۔ پونیوالانے یہ بھی کہا کہ عوامی جانچ اور احتساب کو سنبھالنا ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج تھا۔ پونیوالانے یہ بھی کہا کہ ان کی کمپنی ایک اور کووڈ 19 ویکسین تیار کررہی ہے ، جس کو بچوں کیلئے کئی وجوہات سے منتخب کیا گیا تھا اور اس کو اگلے سال فروری تک منظوری مل سکتی ہے ۔پونیوالانے کہا کہ ہم نے ایسٹرازینکا کے ساتھ کی گئی شراکت داری پر داو لگایا تھا ۔ ہمیں بالکل نہیں معلوم تھا کہ کونسا ٹیکہ کام کرے گا ۔ ہم نے دیگر میکرس کے ساتھ بڑے پیمانے پر ایشوز دیکھے ہیں ۔ ایسٹرازینکا ۔ آکسفورڈ کے ساتھ ہمارا کام اچھا رہا ۔ ہم کچھ کمپنیوں سے فل اینڈ فنش کیلئے بات کررہے ہیں ۔ کئی شراکت داروں کے ساتھ فل ۔ فنش کیا جاسکتا ہے ۔ کوویکس کو بایوکان یا ہماری فیسیلیٹی میں بھرا جاسکتا ہے ۔پونیوالانے کہا کہ دنیا بھر میں کووڈ ویکسین کے ایکسپورٹ کیلئے ان کی فرم مرکزی حکومت کے آرڈر کا انتظار کررہی ہے ۔ پونیوالا نے کہا کہ سرکار نے دسمبر تک ہر ماہ کیلئے کووی شیلڈ کی 20 کروڑ ڈوز کا آرڈر دیا ہے ۔ اکتوبر کے آخر تک ہم کچھ ایکسپورٹ کی پھر سے شروعات کرسکتے ہیں ۔ ہم فی الحال اسٹاکس کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت کی ہدایت کے انتظار میں ہیں ۔ کوویکس اور ویکسین کی دستیابی پر پونیوالا نے کہا کہ ہم نے کوویکس کیلئے ڈبلیو ایچ او کے پاس ڈیٹا جمع کیا ہے ۔ ہم نے کئی وجوہات سے بچوں کیلئے ویکسین کے طور پر کوویکس کو منتخب کیا ہے ۔ویکسین کے اسٹاک کے معاملہ میں اب فکر کی کوئی بات نہیں ہے ۔ ہمارے پاس ابھی ایک مہینے کا اسٹاک دستیاب ہے ۔ فروری تک ، ہمیں دو تین سال سے کم عمر کے بچوں کیلئے کوویکس کی منظوری مل جانی چاہئے ۔
