بیدر:۔ممتاز مزاح نگار دکنی شاعر سلیمان خطیب کی پیدائش 26ڈسمبر 1922 کو چٹگوپہ کے خطیب گھرانے میں ہوئی ۔ وہ یتیم ویسیر تھے۔ اس لئے بچپن پریشانیوں میں گذرا ۔انھوں نے خود ایک جگہ لکھاہے میں نے دس سال کی عمر تک جوتا نہیں پہنا اور ٹوپی نہیں پہنی ۔ پھر انھیں1941 کو بحیثیت میکانیکل فورمین محکمہ آبرسانی گلبرگہ میں ملازمت مل گئی۔ وہ1977کو اسی مقام سے وظیفہ حسن ِ خدمت پر سبکدوش ہوئے۔ انہیں 5لڑکے اور 5؍لڑکیاں اللہ تعالیٰ نے دیں جن میں شمیم ثریا نے اپنے والد سلیمان خطیب کی شاعری کو تمام عالم میں پہنچانے کی کامیاب سعی کی، ایسی بیٹیاں تمام قلمکاروں کے قسمت میں ہوناچاہیے۔ یہ باتیں ادیب وشاعر اور ممتاز صحافی محمدیوسف رحیم بیدری سکریٹری یارانِ ادب بیدر نے کہیں۔ وہ آج نماز جمعہ سے قبل رپٹن پی یوسی اور ڈگری انسٹی ٹیوٹ موقوعہ باورچی گلی بیدر میں یارانِ ادب بیدر کی جانب سے ’’سلیمان خطیب کا یومِ وفات۔ 22؍اکٹوبر‘‘ کے عنوان پر خطاب کررہے تھے۔جس کے لئے انھوں نے وہاب عندلیب کی کتاب کوسامنے رکھ کر سلیمان خطیب کی نعتیہ دکنی نظم’’نبی ؐ خانہ ، چھوراچھوری ، ساس بہو، سیلف اسٹارٹر نظم پڑھ کر سنائی جنہیں سن کرطالبات کے چہرے کھل اٹھے ۔ محمدیوسف رحیم بیدر ی نے طالبات سے کہاکہ اپنے علاقہ کے شعراء اور تاریخی مقامات سے واقفیت رکھنے سے طلبہ میں ریسرچ اور کھوج کے جراثیم کو تقویت ملتی ہے۔ علم میںکشادگی ہوتی ہے۔موصوف نے بتایاکہ سلیمان خطیب کی دکنی شاعری آج یونیورسٹیز میں پڑھائی جاتی ہے اور جن کے چند اشعارضرب المثل کی طرح مشہور ہیں۔فضل گلبرگوی ، صابر شاہ آبادی ،قیسؔبرہانپوری، مظہر محی الدین ، راہی قریشی ،مضطر مجاز ، شیدارومانی ، جبار جمیل ، عطاکلیانوی وغیرہ نے سلیمان خطیب کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کلام منظوم کیاہے جس کویکجاکرنے کاسہرا وہاب عندلیب کے سرجاتاہے۔ اس موقع پر سلیمان خطیب کے تعلق سے طالبات نے سوالات بھی کئے۔ ابتداء میں طالبہ مہرالنساء نے سلیمان خطیب کے شعری مجموعہ ’’کیوڑے کا بن‘‘ کا کنڑا ترجمہ ’’کیدگے یا بن ‘‘سے ’’کوی یا منے ‘‘ نامی نظم کنڑی زبان میں پڑھ کرسنائی۔ شیموگہ سے تشریف لائے نوجوان شاعر رحمت اللہ رحمت ؔنے ماں اور بیٹیوں سے متعلق نظمیں سنائیں جس کو طالبات نے کافی پسند کیا۔اورتالیاں بجاکر ان نظموں کاخیرمقدم کیا۔شیخ مظہر رپٹن انسٹیٹیوٹ نے تقریب کی نگرانی کی۔
