اپنے اُمیدوار

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر نمایاں

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
پچھلے دنوںیوپی ایس ای کے امتحان میں ایک مسلم خاتون کامیاب ہوئی، اس خاتون کو جب انٹرویو کے دوران کامن سویل کوڈ اورطلاق کے ثلاثہ کے تعلق سے سوال کیا گیا کہ کیا یہ قوانین درست ہیں اورکامن سویل کوڈکوکیوں نہیں نافذ کیا جانا چاہئے تو اس خاتون نے افسروں کو بتایا کہ کامن سویل کوڈ کا قانون نافذ کرنے کیلئے ابھی اس ملک کے لوگ اتنے تعلیم یافتہ نہیں ہیںاورطلاق ثلاثہ کے معاملات مسلمانوں میں تعلیمی شرح کم ہونے کی وجہ سے ہورہے ہیںاورطلاق ثلاثہ کا قانون آنے کے بعدطلاق کی شرح میں کمی آئی ہے یہ بھارت کیلئے خوش آئند بات ہے۔ ایک افسر بننے جارہی مسلم خاتون کے ذریعہ سے اسطرح کی رائے پیش کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ خاتون دینی تعلیمات سے ناواقف ہے اوران میں دینداری کی کمی موجود ہے۔ جب بھی یو پی ایس سی کے امتحان کے نتائج آتے ہیں تو مسلمان سب سے پہلے فہرست میں مسلم امیدواروں کی کامیابی کی شرح کو تلاش کرتے ہیں اورمسلم امیدواروں کی کامیابی پرخوش ہوتے ہیں اورانکی کامیابی کو اپنی کامیابی مانتے ہیں ۔ ہمارا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ جن مسلمانوں کی کامیابی پر پوری قوم خوش ہوتی ہے ان میں سے اکثر امیدوار ایسے نکلتے ہیں جنہیں بعد میں مسلمانوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ بعض افسران سلام کرنے پر جواب تک نہیں دیتےاوربعض تو مسلمان سے راست بات کرنا بھی گوارا نہیں سمجھتے۔ کچھ ایسے افسروں کو بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنےسامنے مسلمان کو دیکھتے ہیں تو آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔ دراصل ایسے حالات اس وجہ سے وقوع پذیر ہوتے ہیں کیونکہ یہ نوجوان مسلمان تو ہوتے ہیں لیکن وہ ا س بات کو محسوس نہیں کرتے ہیں کہ قوم کیا چیز ہے اورقوموں کی قیادت وضرورت کیا ہے۔ جس دن یہ لوگ اس بات کو محسوس کرنے لگیں گہ قوم ان سے بہت زیادہ امید رکھتی ہے تو شاید ایسے حالات پیدا نہیں ہوںگے۔ اکثر ایسے نوجوانوں کو بھی دیکھا گیا ہے کہ یو پی ایس سی اورپی ایس سی کے امتحانات میں کامیاب ہونے کے بعد پوری طرح سے قوم سے کٹنا پسند کرتے ہیں ، یہاں تک کہ وہ شادیاں بھی غیروں سے کرنے لگتے ہیں۔ ملت اسلامیہ میں یہ مسئلہ اس لئے ہے کہ مسلمانوں میں عصری تعلیم ودینی تعلیم کو علیحدہ کررکھا ہے جو دینی تعلیم سے وابستہ ہیں وہ افسر بننے کیلئے آگے نہیں بڑھ رہےاور جو عصری تعلیم سے وابستہ ہوتے ہیں وہ دینی تعلیم اور دین کو سمجھنے سے اکثر افسران قاصر ہیں۔ سنگھ پریوار کی بات لیجئے باقاعدہ انکے یہاں نوجوانوں کی ذہین سازی کی جاتی ہے اوراسکے لئے پوری منصوبہ بندی ہوتی ہے کہ ان افسروں کو تاحیات سنگھ پریوار اورہندوراشٹربنانے کیلئے پابند رکھا جائے ، جو ذہن سازی اورجو تربیت دے کر سنگھ پریوار آج نوجوانوں کو پبلک سروس کمیشن کے مختلف عہدوں میں بھرتی کرواتا ہے وہی اثر ہے کہ بھارت ہندوراشٹر کی جانب گامزن ہے۔ اگر بھارت میں یہ حالات رونما ہورہے ہیںتو بھارت کے مسلمان ان معاملات میں بالکل بھی سنجیدہ نہیں ہیں۔ بھارت کے مسلمانوں کے ذہین میں اب بھی یہ بات نہیں آئی ہے کہ اس وقت اگر اس قوم کا تحفظ ممکن ہے تو وہ نوجوانوں کوافسرشاہی نظام میں شامل ہونا چاہئے، ہرکوئی قدم کے نام پر کونسلر، کارپوریٹر یا سیاستدان بننا چاہتا ہے لیکن افسرشاہی نظام ، عدلیہ اورصحافت کے میدان میں انکا وجود نہ کے برابر ہے۔ جب تک جمہوری نظام کے ان تین شعبوں میں بھی مسلمانوں کی نمائندگی نہیں ہوتی اس وقت تک مسلمانوں کے تحفظ کی امید کرنا بے کا ربات ہے۔ آج قوم کے ذمہ داروں اورعمائدین اورملی تنظیموں کو اس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ وہ مسلم نوجوانوں کی ذہین سازی کرتے ہوئے ان شعبوں میں کام کرنے کیلئے ترغیب دینا چاہئے۔