اننا بھاگیہ منصوبے پر تنقید کرنے والے اب اننا بھاگیہ کا کریڈیٹ مودی جی کو دے رہے ہیں: سدرامیا کا طنز

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔اب تک اننا بھاگیہ منصوبےپر تنقید کرنے والے ہی اب اس منصوبے کو وزیر اعظم نریندرمودی کے نام سے منسوب کرنے جارہے ہیں۔ اسی وجہ سے ہم بی جے پی کو جھوٹ کا کارخانہ کہتے ہیں۔ جو لوگ اب تک اننا بھاگیہ منصوبے سے الرجی رکھتے تھے وہی وزیر اعظم نریندرمودی کو اس منصوبے کا کریڈیٹ دینے کی تیاری کررہے ہیں۔ اس بات کا اظہار سابق وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کیا ہے۔ انہوں نے آج نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کو چاہئے کہ کم ازکم وہ کھانے کے اناج کے بارے میں تو سچ کہیں ، اگر اس معاملے میں بھی انکے پاس ایمانداری نہیں ہے تو یہ ہمارے وقت کا سب سے بڑا المیہ ہوگا۔سیول فوڈسپلائی منصوبہ جاری کرنے والی پارٹی کانگریس ہے۔ جنگ ، قحط سالی، سیلاب اور قدرتی آفات کے موقع پر درپیش بھوک مری سے نمٹنے کیلئے 1960 میں ہی مفت اناج تقسیم کرنے کا منصوبہ جاری کرنے والی پارٹی کانگریس ہے۔ 1992 میں کانگریس پارٹی نے سیول سپلائی قانون کو جاری کیا تھا، مرکزی حکومت نے ریاستی حکومتوں کو رعایت میں اناج فراہم کرتے ہوئے عام لوگوں کو سہولت دی تھی۔ 2004 میں انتودیا منصوبے کے تحت استفادہ کرنے والے لوگوںکی تعداد1کروڑ سے بڑھ کر 2 کروڑ ہوچکی تھی۔ اسکے علاوہ 2005 میں 5.2کروڑ انتو دیا منصوبے کا فائدہ اٹھاتے رہے۔ سال 2013 میں منموہن سنگھ کی قیادت والی حکومت نے فوڈ پروٹیکشن ایکٹ جاری کیا تھا اس قانون کے مطابق بھارت کے ہر شہری کو بہتر غذاحاصل کرنے کا حق دیا گیاتھا اوراس حق کو بنیادی حق تسلیم کیا گیا تھا۔ اسکے بعد اس قانون کو ایک انقلابی قانون قرار دیا گیا۔ بھارت میں اس قانون کو رائج کرنے کے بعد کروڑوں لوگوں کو فائدہ پہنچاہے۔ سال 2017 کے اپریل میں ہر فرد کو 7 کلو چاول 2 کلو گیہوں 1کلو دال دینا شروع کیا گیا تھا۔ ہر خاندان کو جس میں کم ازکم 10افراد ہوں انہیں 70 کلو چاول، 20 کلو گیہوں، دیا جارہا تھا۔ چاول اور گیہوں کو مفت میں دے کر دال فی کلو 38 روپئے سے فروخت کی گئی تھی۔ لیکن بی جے پی حکومت اقتدار میں آنے کے بعد سے اب چاول 2کلو کم کئے گئے ہیں، گیہوں 2 کلو دئے جارہے ہیں۔ اس حکومت کے آنے کے بعد فی کارڈ 2 کلو گیہوں دئے جارہے ہیں۔ جب لوگ چاول زیادہ دینے کیلئے مطالبہ کررہے تھے تو ریاستی وزیر برائے خوراک امیش کتی نے کہا ہے کہ تمہارے جینے سے مرنا ہی بہتر ہے۔ نہایت غریب لوگوں کیلئے انتودیا منصوبے کے تحت چاول، گیہوں، دال نمک اورکھانے کا تیل دیا جارہا تھا 2020 سے صرف چاول دینا شروع کیا ہے۔ گیہوں، شکر ، دال یہ تمام چیزیں منسوخ کئے گئے ہیں۔ یو پی اے حکومت کے دوران جاری کئے گئے فوڈ سیفٹی ایکٹ کے تحت میرےدوراقتدار میں جس اننا بھاگیہ منصوبےکو میں نے جاری کیا تھا اسے کوویڈ کے دوران پردھان منتری غریب کلیان اننا یوجنا کا نام دے کر میرے منصوبے کو ہی ہائی جیک کرلیا گیا ہے۔ یوپی اے حکومت میں جاری کردہ منصوبے کا نام تبدیل کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی اوربی جے پی نے سارے ملک کو جھوٹ کہا ہے۔ بی جے پی حکومت نے ملک کی ترقی کیلئے اگر کچھ کام کیا ہے تو وہ صرف جھوٹ کہنا اورپرانی حکومتوں کے منصوبوں کے نام تبدیل کرنا رہ گیا ہے۔