بنگلورو:۔بزمِ امیدِ فردا کے زیرِ اہتمام،بہ مکان سید عرفان اللہ، انور لے آوٹ، بنگلور "نعتیہ محفل” کا انعقاد عمل میں آیا۔ نعتیہ مشاعرہ کی صدارت مبین منور، سابق چیرمین، کرناٹک اردو اکادمی نے فرمائی اور مولانا صوفی طالب اطہر قادری، گلبرگہ و مبین احمد زخم، یادگیر مہمانانِ خصوصی شامل رہے ۔ مبین منور، مبین احمد زخم، ریاض احمد خمار، عطا اللہ مسرور، ندیم فاروقی، محمد سعید سر قاضی، مصطفیٰ پرواز، عمران اسلم،شیخ حبیب اور عبدلعزیز داغ نے نعتیہ کلام سے حاضرین و آن لائن ناظرین کو محظوظ فرمایا۔ نعتیہ محفل کا آغاز مولانا صوفی طالب اطہر قادری کی تلاوتِ آیاتِ ربانی سے ہوئی۔ نعت حافظ سید تبریز نے پیش کی۔مولانا صوفی طالب اطہر نے تاثرات پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ نعت کی محفلیں صرف سچے عاشقِ رسولﷺ ہی منعقد کرتے ہیں یہ سعدت ہر ایک کے حصہ میں نہیں آتی۔ جو نعت کی محفلیں سجاتے ہیں وہ بڑے ہی خوش نصیب ہوتے ہیں۔ صدارتی کلمات ادا کرتے ہوئے مبین منور نے فرمایا کہ نعت کہنا ہر کسی کو میسر نہیں لیکن جو نعت لکھتے ہیں وہ پل سراط پر گذرنے کے برابر مشقت سے دو چار ہوتے ہیں تھوڑی سی بھی غلطی گناہ کی دہلیز تک پہنچا دیتی ہے۔ ہم شعراء کو چائیے کے نعت لکھتے وقت ان باتوں پر غور و خوص کریں اور نعتِ نبیﷺلکھتے وقت صرف نعت یعنی آقاﷺکی تعریف و توصیف ہی بیان کریں اس میں کسی بھی دنیاوی باتوں کو شامل نہ کریں ۔مبین منور نے آگے فرمایا کہ نعت کی محفلوں میں شریک ہونا بھی ثواب میں شامل ہے۔ سید عرفان اللہ کی خواہش پر سید تبریز نے دعائیہ کلامات ادا کئے ، جس کے بعد مصطفی پرواز کی لائی مٹھائی تقسیم کی گئی۔ نعتیہ محفل کی نظامت، استقبالیہ و ہدیہ تشکر سید عرفان اللہ قادری، سرپرست و بانی، بزمِ امیدِ فردا نے فرمائی۔
