فطرے اور صدقے مسئلہ کا حل نہیں!!!

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر نمایاں

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437324
نہ جانے ہمارے سماج میں کتنی تنظیمیں،ادارے،کمیٹیاں اورمحفلیں موجود ہونگی،ہر ایک تنظیم ،ادارے اور کمیٹی کا مقصد فلاح وبہبودی کیلئے کام کرناہے۔ہر کوئی چاہتاہے کہ ان کی کمیٹی یاادارے کی جانب سے قوم وملت کی فلاح ہو اوراس کیلئے ان کے ذریعے باقاعدہ طور پرکام بھی کئے جاتے ہیں یاپھرکم ازکم سالانہ جلسے وتقاریبات منعقدکئے جاتے ہیں اور اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ ہم ابھی زندہ ہے۔بھارت میں اس وقت قوم وملت کی خدمت کیلئے تنظیمیں وادارے موجودہیں،اگر وہ واقعی میں اپنے اغراض ومقاصدکے مطابق کام کرنے لگے تو شائد بھارت کے مسلمانوں کوعلیحدہ طاقت بنانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ہماری تنظیمیں واداروں کے اغراض ومقاصد کا سرسری طو رپر جائزلیںگے اور اُن کی طرف سے جو دعوئے کئے جاتےہیں اُن دعوئوں کاجائزہ لیاجائیگاتو یقیناً ہم اور آپ یقین نہیں کرینگے کہ کیا واقعی میں یہ تنظیمیں وادارے یہ تمام کام کررہےہیں۔دراصل جس طرح سے مدرسوں کے بیشتر اشتہارات میں یہ دیکھاجاتاہے کہ ہمارے یہاں سینکڑوں طلباء زیر تعلیم ہیں،یاپھر ہزاروں طلباء کو تعلیم دی جارہی ہے جبکہ حقیقت میں ان مدارس سینکڑوں کی جگہ درجن اور ہزاروں کی جگہ سینکڑوں طلباء ہی تعلیم حاصل کرتے ہیں یہ تو صرف مارکیٹنگ کے الفاظ ہوتے ہیں،ان کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا،بالکل اسی طرح سے ہماری تنظیموں واداروں کایہی حال ہے۔یہ جو دعوئے کرتے ہیں جس میں قوم وملت کی قیادت،تعلیمی اداروں کا قیام،ضرورتمندوں کی مدد،لاچاروں وبے سہاروں کا تعائون،غریبوں ومفلسوں کا سہارا بننے کا جو عزم ظاہرکرتے ہیں وہ عزم صرف کتابی یا اشتہاری ہوتاہے۔بہت کم ایسی تنظیمیں ہیں جو اپنے قول وفعل میں تضاد نہیں رکھتے اور حقیقت میں اُمت کو قول اور فعل میں تضاد نہ رکھنے والے ادارے ہی چاہیے۔آج مسلمانوں کی حالت کو باریکی سے دیکھیں کہ کس طرح سے وہ تعلیمی طو رپر پسماندہ ہیں،کس طرح سے ان کے یہاں بےروزگاری اوراقتصادی پسماندگی ظاہرہورہی ہے۔کہنے کو تو ہر کوئی مسلمانوں کا ہمدردہے ،لیکن غورکیجئے کہ مسلم تنظیموں واداروں نے کس حد تک مسلمانوں کی تعلیم اور روزگارکے حالات کوبہتر بنانے میں کرداراداکیاہے۔بھارت کے مختلف علاقوں کا جائزہ لیں گے تو آپ کو مذہب کی بنیادپر صرف سیاسی پارٹیاں ہی دکھائی نہیں دینگی بلکہ کارخانے،تجارتی مراکزاور تعلیمی ادارے بھی ہر مذہب وذات کے لوگ اپنے اپنے لوگوں کی فلاح وبہبودی کیلئے قائم کئے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کے یہاں ایسی کوئی مثبت سوچ ہی نہیں کہ مسلمانوں کی فلاح وبہبودی کیلئے وہ کارخانے یا تجارتی مراکز بنائیں۔مسلمان چار پیسے گھر بیٹھے کماناچاہتاہے،اس کیلئے ہی وہ بڑے بڑے شادی محل وکامپلکس بناکر صرف انفرادی مفادکیلئے فکرمندرہتاہےنہ کہ اجتماعی فائدہ پہنچانا اس کا مقصدہوتاہے۔اگر ایک ایک مالداربھی مسلمانوں کی فلاح وبہبودی چاہتاہے تو وہ اس کیلئے صدقہ وفطرے دینے کے بجائے مستقل طو رپرکاروباری نظام کو رائج کرے،چھوٹے چھوٹے کارخانے بنائے جہاں 50-25 لوگ روزگار حاصل کرسکیں۔صرف عالیشان شادی محل بنانے سے کسی کو روزگار نہیں ملتا،نہ ہی یہ اُمت کے مسائل کا حل ہے۔ہاں اُمت میں بڑے بڑے شادی محلوں کو کرایہ پر لینے سے شادی کرنے والوں پر بوجھ ضرور پڑتاہے اور جس کی استطاعت نہ ہو اسے بھی ان شادی محلوں کو کرایہ پر لینے کیلئےمجبورکیاجاتاہے۔آج ٹاٹا ،برالا،رئلائنس جیسے تجارتی وصنعتی مراکز میں بڑے بڑے عہدوں پر اور ذمہ داریوں پر اُن کی ذات کے لوگ مامورکئے جاتے ہیں اور مسلمان ان کارخانوں کا کچراٹھانے،مزدوری کرنے یاپھر معمولی نوکریوں پر تعینات کئے گئے ہیں،اگر مسلمانوں کے یہاں ایک منظم تجارتی نظام رہتا توشائد آج مسلمانوں کی پسماندگی کافی حد تک دورہوچکی ہوتی۔اب بھی وقت ہے کہ بھارت کے مسلمان اپنے اپنے علاقوں میں مقامی سطح پرتجارتی مراکز کی بنیاد رکھیں اور نوجوانوں کو روزگارکے مواقع فراہم کریں۔سال میں ایک بار دئیے جانے والے فطروں وصدقوں سے اُمت کی بازآبادکاری ممکن نہیں بلکہ مستقل وسائل بنانے سے اُمت کی بازآبادکاری ممکن ہے۔ہم نے بیشتر معاملات میں انبیاء اور صحابہ کے طریقوں کو اپنانے کیلئے دعائیں کی ہیں،مگر جو نظام انبیاء و صحابہ نے مسلمانوں کی اقتصادی (فائنانشیل)و معاشی(ایکنامیکل) سسٹم کو بہتربنانے کیلئے رائج کیاتھا،اُسے تو ہم استعمال کرنے کیلئے تیارنہیں ہیں بلکہ صرف مسواک اور داڑھی کی سُنت تک ہی محدود ہوتے جارہے ہیں۔