شیموگہ:۔دہلی سے لیکر کیرل تک،گجرات سے لیکر بنگال تک مسجدوں کو نشانہ بنایاجارہاہے اور ہر مسجد کے پائے کے نیچے کسی نہ کسی ننگے دیوی دیوتائوںکے مندر ہونے کی دلیل پیش کی جارہی ہے اور مسجدوں کو توڑنے کیلئے پیش رفت کی جارہی ہے۔ایسے میں مسلمانوں کومسجدکے صدر سکریٹری کے عہدوںکیلئے لڑنے جھگڑنے کے بجائے مسجدوںکے دستاویزات کو درست کرتے ہوئے مکمل طو رپر تیاررہناہوگا۔عام طو رپر مسلمانوںکے یہاں آئے دن جو نئی مسجدیں تعمیر کی جارہی ہیں وہ ریونیو زمینوں پر تعمیر ہورہی ہیں جس کے رجسٹریشن کے دستاویزات تیار نہیں ہوسکتے نہ ہی میونسپل یا کارپوریشن یا تحصیلدارکی جانب سے اس مسجد کو قانونی اہمیت مل سکتی ہے،ایسے میں کبھی بھی شرپسند طاقتیں قانو ن کی آڑمیں ان مسجدوںپر حملے کرسکتے ہیں یا منہدم کرنے کیلئے پیش رفت کرسکتے ہیں۔اس صورت میں مسلمان دفاع کیلئے کسی بھی طرح کی بنیادیں پیش نہیں کرسکتے۔بابری مسجد،گیان واپی مسجد جیسی بڑی بڑی مسجدیں جن کے ٹھوس دستاویزات ہیں،وہی مسجدیں آج قانونی چارہ جوئی کاشکار ہورہی ہیں،اُن سے بڑھ کر تو ہمارے درمیان موجود مساجدنہیں ہیں۔مسجدوںکےدستاویزات کارپوریشن یا میونسپل کائونسل یا پھر تحصیلدار دفتر سے بنانے کی بات تو دور کئی ایسی مسجدیں بھی ہیںجن کی جگہ کو وقف کرنے والے افراد کے نام پر آج بھی مسجدوںکی جگہ جوں کی توں ہیں۔انہیں تبدیل کرنے کیلئے کسی بھی طرح کی پیش رفت نہیں کی جارہی ہے۔دراصل بیشتر مساجدمیں جو کمیٹیاں قائم ہیں وہ قانونی باریکیوں سے ناواقف ہیں۔ایسے میں یہ لوگ ہرگز بھی یہ نہیںچاہتے کہ کوئی تعلیم یافتہ آکر مسجدکے دستاویزات بنانے کیلئے تعائون کرے،یہ سمجھتے ہیںکہ اگر کسی تعلیم یافتہ مسجدکمیٹی میں شامل کرلیاجائے تو وہ ان پر حاوی ہوجائیگا،لیکن حالات آئے دن اس قدر بدتر ہورہے ہیںکہ مسجدکمیٹی والے ہی خود ان کے بھروسہ مند وکلاء سے رجوع کرتے ہوئے دستاویزات بنالیں،مسجدکی آمدنی و اخراجات کے تعلق سے سالانہ آڈیٹ کرائیں،مسجدکے بجلی کا کنکشن ،مسجدکے پانی کا کنکشن کابل مسجدکے نام پر ہی کروائیں نہ کہ انفرادی طور پر کسی کا نام دیاجائے۔یہ تمام بنیادی چیزیں مسجدکے پاس موجودرہیںگی توتب جاکر آنےو الے دنوںمیںفرقہ پرستوں کا سامنا کرآسان ہوسکتاہے۔
