بنگلورو:۔بزمِ امیدِ فردا کے زیرِ اہتمام ’’ایک ملاقات حنیف قمر کے ساتھ‘‘ کا انعقاد آن لائن کے ذریعے منعقدکیاگیاتھا۔ نشست کا آغاز سید عرفان اللہ کی تلاوتِ آیاتِ ربانی سے ہوا۔ نعت کا نظرانہ صبا انجم عاشی نے پیش کیا۔ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے سید عرفان اللہ نے اپنے مقیم ہم وطن کا پر تپاک استقبال کرتے ہوئے فرمایا کہ’’حنیف قمر ویسے تو ریاستِ کرناٹک کے ادبی شہر گلبرگہ سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ممبئی میں اردو زبان و ادب کی بے لوث خدمت میں دن رات لگے ہوئے ہیں اور ماہانامہ ’تریاق‘ میں جو کام ہو رہا ہے وہ قابلِ ستائس ہی نہیں بلکہ قابلِ فخر بھی ہے۔‘‘ حنیف قمرنے اپنے شہر گلبرگہ کی گلیوں کو یاد کیا اور اپنے بچپن کے دوست و احباب کا تذکرہ کرتے ہوئے گلبرگہ سے ممبئی ہجرت کو یاد کیا۔ گفتگو کے دوران آپ نے اپنے افسانچوں کو پیش فرمایا جنہیں آن لائن ناظرین نے خوب پسند کیا۔ آن لائن ناظرین کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے آپ نے کئی پہلوں کا مباحثہ کیا اور ہر سوال کا تشفی بخش جواب بھی دیا۔ حنیف قمر نے نئے لکھنے والوں کو پیغام دیا کہ’’ لکھنا کوئی بڑی بات نہیں ہے لیکن آپ کی تخلیق اگر معیاری نہ ہو تو وہ کسی کام کی نہیں ہوتی‘‘۔ مزید کہاکہ ہم جب لکھنا شروع کئے تھے اس وقت کے ہمارے بڑے احباب نے ہماری تخلیقات کو دیکھنا بھی پسند نہیں کیا تھا بلکہ یوں مشورہ دیا کہ لکھنے کے بعد اس کو آٹھ سے دس دن اپنے ہی پاس رکھیں اور پھر اس کو ایک اور بار مطالعہ کریں اس کے بعد دیکھیں کے آپ کی تخلیق کتنی معیاری یا اچھی ہے۔ میرے لئے یہ نسخہ بہت کام آیا اور آج میرے افسانچوں اور دیگر تخلیقات میں اس لئے پختگی ہے کہ میں لکھنے کے بعد اس کو کئی بار پڑھتا اور دیکھتا ہوں‘‘۔ اس ملاقاتی نشست کی نظامت صبا انجم عاشی نے انجام دی اورسید عرفان اللہ، سرپرست و بانی، بزمِ امیدِ فردا کے ہدیہ تشکر کے ساتھ نشست کے اختتام کا اعلان ہوا۔
