از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
کرناٹک سےتعلق رکھنے والے ہاجبانامی شخص بے لوث خدمات اور تعلیم کے تئیں جو جدوجہدجاری ہے،اُس جدوجہد کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے انہیں پدم شری ایوارڈ سے نوازاہے۔یہ ایوارڈ بھارت کی تاریخ میں اہم ماناجاتاہے اورہاجباجیسے ایک مخلص انسان ایسے ایوارڈکے مستحق ہوسکتے ہیں، اس دورمیںایوارڈ لینے کیلئے لوگ سفارشات کرواتے ہیں،پیسے خرچ کرسکتے ہیں، ایسے میں ہاجپاجیسی شخصیات کو منتخب کرنا بہت بڑی بات ہے۔اس دورمیں لوگ اپنی کمائی کوصرف اپناہی مال مانتے ہیں اوردوسروں کی پرواہ نہیں کرتے،ایسے وقت میں ہاجباجیسی شخصیت سنترے فروخت کرکے تعلیم کو عام کرنے کیلئے جو قدم اٹھایاہے وہ قابل ستائش ہے اور ایسی شخصیات بہت کم ملتی ہیں اور ان کاڈھونڈنے پر بھی ملنا مشکل ہے۔اس وقت کرناٹک میں ٹیپوسلطان کی یوم پیدائش کے موقع پرجابجا جلسے منعقدکئے جارہے ہیں،تقریبات ہورہے ہیں اور لوگ مختلف مطالبات کررہے ہیں کہ سڑک کا نام ٹیپوسلطان رکھاجائے،ائیرپورٹ کا نام ٹیپوسلطان رکھاجائے اور کوئی کہہ رہاہے کہ ٹیپو سلطان کے نام پر یونیورسٹی بنائی جائے،اسی درمیان بھارت کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابولکلام آزاد کی یوم پیدائش پریوم تعلیم کا انعقادکیاجارہاہے اوریوم تعلیم منانے کیلئے سوائے مسلم جماعتیں اور مسلم تعلیمی ادارے کوئی پہل نہیں کررہا ہے ۔ کنڑاکے فلم اداکار پونیت راجکمار بھی حال ہی میں وفات پاچکے ہیں اور ان کی موت پر جہاں ان کے مداح افسوس کررہے ہیں،آنسو بہارہے ہیںوہیں مسلمانوں کی اکثریت بھی ان کی تصاویر کو فیس بک پر شیئر کررہے ہیں،افسوس کررہے ہیں،سوشیل میڈیا میں ان کے گُن گان گارہے ہیں اورکچھ نے تو انہیں ان کے باپ راجکمارکے ساتھ جنت میں بیٹھنے رہنے کی تصویریں شیئر کی ہیں اور کہاہے کہ” پونیت تم جیسا کہاں” ۔چاروں الگ الگ شخصیات ہیں او رچاروں میں اپنے اپنے شعبوں میں کام کیا ہے۔لیکن مسلمانوں کے یہاں ایک تصور اور ایک فکریہ ہے کہ وہ کسی بھی معاملے کو سنجیدگی کے تحت نہیں لیتے،ان میں جذبات کوٹ کوٹ کر بھرے ہونے کی وجہ سے وہ جذباتی قوم بن چکی ہے ۔انہیں سنجیدگی،حکمت اور مستقل مزاجی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔جس طرح سے حضرت ٹیپوسلطان شہیدؒ نے انگریزوں سے لڑتے ہوئے اس ملک کوآزاد رکھنے کی کوشش کی تھی اور آخری دم تک انگریزوں کے ساتھ لڑتے رہے اور شہادت حاصل کی،اسی طرح سےمولانا ابولکلام آزادنے بھی انگریزوں کے خلاف آوازاٹھانے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی،انہوں نے تعلیم کو عام کیا،تعلیم کی ضرورت ،جہالت کو دورکرنے کے طریقے اور جدید تعلیم کو اخلاقی تعلیم سے جوڑکر جو نقشہ دُنیاکے سامنے پیش کیاوہ قابل ستائش اور قابل قبول ہے،ان کا مرتبہ بھی کچھ کم نہیں ہے۔لیکن مسلم قوم کی ذہنیت کا جائزہ لیں ،کیونکہ ٹیپوسلطان انگریزوں کے ساتھ جنگ لڑتے ہوئے شہید ہوئے تھے اور انہوں نے اس ملک کیلئے خون بہایا تھا ، اس لئے مسلمان ٹیپوسلطان کی شخصیت سے جذباتی تعلق رکھتے ہیں ۔سونے پر سہاگا یہ رہاکہ ٹیپوسلطان کے نام پر”ڈی سوارڈ آف ٹیپوسلطان” نامی ٹی وی سیریل جاری ہواتو مسلمان مزید جذباتی ہوگئے۔جب بھی "ڈی سوارڈ آف ٹیپوسلطان” سیریل شروع ہوتا اُس وقت موسیقار نوشاد کی میوزک پر قوم پوری مزید جذباتی ہوجاتی اورآج بھی یہ میوزک ٹیپوجینتی یا ٹیپوسلطان کے جلسوں میں لازمی طو رپر بجایاجاتاہے ، اس سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ قوم کتنی جذباتی ہے،انہیں جذبات آڑمیں مسلم قوم ٹیپو جینتی،ٹیپو ائیر پورٹ،ٹیپو روڈ،ٹیپو یونیورسٹی کا مطالبہ کرتی ہے۔رہی بات مولاناآزادکی تو انہوں نے تعلیم کو عام کرنے کا درس دیاتھا،قوم کو جہالت سے نکل کرانسانیت پر رہنے کا درس دیاتھا اور انہوں نے تعلیم کے بغیر زندگی کو بیکار کہاتھا۔ان کا یہ پیغام تو قوم آج تک نہ جا ن سکی ہے ،اسی لئے وہ مولانا ابولکلام آزادکے تئیں سنجیدہ نہیں ہے اورنہ ہی ان کے پیغام کوجاننے کی کوشش کرتی ہے۔اسی لئے مولانا آزاد کے تئیں ہماری اہمیت نہیں ہے۔اب بات کرتے ہیں پونیت راجکمارکی ،یہ فلم اداکار خالص فنکارہیں اور وہ اپنے فن کو روزگار سے جوڑے بیٹھے ہیں،ایسے میں پونیت رجکمار کو جس طرح سے اہمیت دی جارہی ہے وہ ہمیں اس بات کو سوچنے کیلئے مجبو رکررہی ہے کہ کیاواقعی میں قوم مسلم ناچنے گانے والوں اور تفریح کرنے والوں کیلئے بے انتہاء سنجیدہ ہوچکی ہے ؟ ۔سب سے آخرمیں پدم شری ایوارڈ لینے والے ہاجباکی ہم بات کرتے ہیں۔اس وقت قومِ مسلم کو ٹیپوسلطان سیریل کی جذباتی میوزک،پونیت راجکمارکی موت کا غم ختم ہوچکاہوتو ہاجباجیسی شخصیت کو اہمیت دینا شروع کریں،اپنی گلیوں،محلوں کے ناموں کو ہاجباکے نام سے منسوب کرنے کا مطالبہ کریں اورعوامی مقامات کو ہاجپاکے نام سے جوڑنے کی کوشش کریں،کیونکہ ایک ناچنے گانے والے کام نام سڑکوں کے ساتھ جوڑاجارہاہے تو تعلیم کے شعبے میں انقلاب لانے والے پدم شری ہاجباجیسے لوگوں کو کیوں نظراندازکیا جا ئے ۔ ہمیں جذبات سے نہیں بلکہ حالات کے تحت فیصلے لینے کی ضرورت ہے،فرقہ پرست حکومت بی جے پی کے دورمیں کسی مقام کا نام ٹیپوسلطان کے ساتھ جوڑنے کیلئے مطالبہ کیاجائیگا تو یہ حکمت نہیں بلکہ شرارت ہوگی۔اس لئے حکمت کی بات یہ ہے کہ مسلمان موجودہ وقت میں اُن شخصیات کو ترجیح دیں جن کا تعلق ملت سے ہو اوراُن کے خلاف حکومت بھی کچھ نہ کہتی ہو۔اگر یہ سلسلہ شروع ہوتا ہے تو حکمرانِ وقت کیلئے حیلہ بنانے کا موقع بھی نہیں ملے گا۔رہی بات ٹیپوسلطان جیسے شخصیات کے ناموں کو اُجاگر کرنے کی تو وہ غیر فرقہ پرست حکومتوں کے آنے کے بعد ہی کیاجاسکتاہے۔
