وزڈم انگلش اسکول اورروزنامہ آج کاانقلاب کا مشترکہ جلسہ برائے یوم اردو اور یوم تعلیم; علامہ اقبال کی شاعری ہر نسل کےنوجوانوں کیلئے ہے: رحمت اللہ رحمت

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
اردو زبان صرف شعرو شاعری کیلئے نہیں بلکہ اخلاقیات کا بھی درس دیتی ہے:ناصر خطیب
شیموگہ:۔علامہ اقبال کی شاعری ہر دورکی نسل کیلئے ہے اور ان کی شاعری سے نوجوانوں کو رہنمائی ملتی ہے،نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ علامہ اقبال کی صفت کو سمجھیں اوراُن کے پیغام کو عملی طو رپر اپنانے کی کوشش کریں۔اس بات کااظہارشاعر و قلمکار رحمت اللہ رحمت نے کیاہے۔انہوں نے آج شہرکے وادی ہدیٰ میں موجود وزڈم انگلش اسکول اورروزنامہ آج کاانقلاب کے مشترکہ جلسے برائے عالمی یوم اردو(علامہ اقبال کی پیدائش)اور قومی یوم تعلیم( مولانا ابوالکلام کی یوم پیدائش) کے موقع پرمہمانِ خصوصی کے طو رپر شرکت کرتے ہوئے کہاکہ علامہ اقبال نے بھلے ہی ابتداء میں اپنی شاعری میں عشق ومحبت کا رنگ لائے تھے،لیکن اس کے بعد کی شاعری نے انہیں شاعرِ اسلام اور شاعرِ مشرق بنادیا۔انہوں نے اپنے کلام میں جہاں نوجوانوں کو مختلف طریقوں سے ابھارنے کی کوشش کی،وہیں قرآنی علوم اور فلسفے کو شامل کرتے ہوئے آفاقی شاعر بن گئے۔اس موقع پر روزنامہ آج کاانقلاب کے ایڈیٹر مدثراحمدنے مولاناابولکلام آزادکی سوانح حیات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ مولانا ابوالکلام آزادنےجو مقام بھارت جیسے ملک میں حاصل کیاہے وہ کسی اور ملک میں ممکن نہیں تھا،انہوں نے ہمیشہ ہندومسلم بھائی چارگی کو اہمیت دی تھی اور ہمیشہ سے ہی اتحادکی تائید میں رہے۔اتحادکے بغیر کامیابی ممکن نہیں،یہ پیغام مولانا آزادنے دیاہے۔یوم پیدائش منانے کا مقصد کسی کی پرستیش یا واہ واہی کرنا نہیں ہے بلکہ اُن کے اوصاف،اخلاق اور پیغام کو عام کرناہے۔مولانا آزادکو اکثر ہم مجاہد آزادی کے طورپر ہی پہچانتے ہیں،جبکہ آزادی کے بعدتعلیم کے شعبوں میں انہوں نے جو جدیدیت لائی اور ملک کو آئی آئی ٹی،یوجی سی اور دیگر تعلیمی اداروں کا جو تحفہ دیاہے وہ آج بھی ناقابل بیان ہے اوران کی فکر ونظریات کاکوئی ثانی نہیں،طلباء کو چاہیے کہ وہ ہماری عظیم شخصیات کے تعلق سے پڑھیں ،آج ہر چیز آن لائن ہوچکی ہے ،ہمارے اجدادو اسلاف کی زندگیوں کے تعلق سےبھی آن لائن تفصیلات مل جاتی ہیں،اُن تفصیلات کامطالعہ کریں ۔جلسہ کی صدارت انجام دے رہے ادارے کے صدر و جماعت اسلامی کے امیر مقامی ناصرخطیب نے کہاکہ اردو کی شیرینی محسوس کرنی ہے تو اُس کی شاعری پڑھنی چاہیے اور اردو کو صرف شعرو شاعری کی زبان سمجھنا غلط ہے۔جو لوگ اردو زبان پڑھتے ہیں،جانتے ہیں وہ مہذب لوگ ہوتے ہیں جن میں الگ ہی طرح کی تہذیب ہوتی ہے،لیکن آج لوگ ارد وسے دور ہوتے جارہے ہیں،اردو سے دورہونا گویاکہ اپنی تہذیب سے دورہوناہے،ہمیں چاہیے کہ ہم اس زبان سے محبت کریں،اسے اپنی روزمرہ کی زندگی میں استعمال کریں اور اس کی ترقی اور بقاء کی خاطر کام کریں اور اپنے بچوں کو کم ازکم اردومیں تعلیم دلوائیں ۔اس جلسے کاآغازمحمد حارث کی قرات سے کیاگیا اور نعت کا نظرانہ مدیحہ طوبیٰ نے پیش کیا۔مہمان خصوصی کے طورپر سی آرپی فاطمہ کوثر،روزنامہ آج کاانقلاب کے پبلیشرمحمد لیاقت موجودرہے ۔نویں جماعت کی طالبہ فلک خطیب نے مولاناابوالکلام آزادمحسن تعلیم کے عنوان پر تقریر کی ،دسویں جماعت کی طالبہ عائشہ ذولفہ نے علامہ اقبال کا پیغام نئی نسل کے نام کے عنوان پر تقریرکی۔نورا خطیب اینڈ گروپ نے ترانہ پیش کیا،جلسہ کی نظامت اسکول کی معلمہ فاطمہ بی نے نبھائی اور بی بی عائشہ نے شکریہ اداکیا۔اس موقع پراسکول کی میر معلمہ فرزانہ بانوسمیت دیگر اساتذہ موجودتھے۔