مرکزی وزیر امورِ اقلیت مختار عباس نقوی سے سماجی کارکن سی آر نصیر احمد کی ملاقات 

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نیشنل نیوز
داونگیرے:۔شہر کے معروف سماجی کارکن ڈاکٹر سی آر نصیر احمد ملک میں اقلیتوں کے مسائل کو لیکردارالحکومت دہلی میں ملک کی مرکزی حکومت میں وزیر امور اقلیت مختار عباس نقوی سے ملاقات کی۔ سی آر نصیر احمد جو کہ ایک سماجی کارکن ہیں ملک میں پہلے فرد جو کسی مٹھ کے ٹرسٹی ہیں اُن کی سماجی خدمات سے متاثر اُنہیں مرگھہ راجیندرہ مٹھ کا ٹرسٹی بنایا گیا،اِن کا کہنا ہے کہ ملک کی عوام الیکشن کےموقع پر ہی پارٹی وغیرہ کے چکر میں ٹھیک الیکشن کے بعد جو بھی اکثریتی رائے سے منتخب ہو وہ حکومت ہوگی باقی اس حکومت سے اپنے تعلقات بنائے رکھے اور ملک کی ترقی میں حکومت کو اپنا تعاؤن پیش کرتے ہوئے خود بھی اپنے مسائل حکومت سے حل کرانے کی کوشش کرے کسی صورت عوام کی اکثریتی رائے سے منتخب حکومت کے سامنے مخالف سیاسی جماعت کی طرز پر مخالفت پر نا اُترے یہ سیاسی پارٹیاں کرتی ہیں ٹھیک ہے ،جو بھی پارٹی بسراقتدار ہو اس سے اپنے مسائل حل کرانے کی سنجیدہ کوشش ہی اصل سماجی خدمت ہے ،اِنہوںنے پچھلے دنوں دارالحکومت دہلی میں مرکزی وزیر امور اقلیت مختار عباس نقوی  سے ملاقات کی اس کی تفصیلات اخباری نمائندوں کے سامنے وہ رکھنے جارہے ہیں جو قارئیں کی خدمت میں پیش کیا جارہاہے  ،سی آر نصیر احمد نے کہا کہ مرکزی وزیر امور اقلیت مختار عباس نقوی کے مدعو کرنے پر دارالحکومت دہلی میں اُن  سے تقریبا 45 منٹ ان سے گفتگو کا ملا اس موقع پراُنہوں نے مرکزی وزیرکو ملک ور یاست میں اقلیتوں کے مسائل سے آگاہی فراہم کرنے کی کامیاب کوشش کی  کہ ریاست کرناٹک میں اقلیتوں کے کیا مسائل ہیں  ،کیونکہ نصیر احمد اس سے پہلے ریاستی اقلیتی کمیشن  ، اور پلانگ کمیشن کے ممبر رہے، علاوہ  مرکزی و ریاستی حکومت  کےدیگر کمیشنوں میں اُنہیں خدمت کرنے کا موقع ملا ،توبتایا کہ عبدالعظیم کو ریاستی اقلیتی کمیشن کا چیرمن نامزد ہوئے تقریبا دوسال کا عرصہ ہورہا ہے مگر اب تک اس کی پوری کمیٹی تشکیل نہیں ہوئی اس سے  کام کرنے میں مشکل ہوگی ، بہت ساری اسکیموں کو منسوخ کردیا گیا ہے اس سے اقلیتی طبقے سے وابستہ لوگوں کے مسائل بڑھ گئے ،ریاست میں پچھلے 2018 -19 کے  پہلےکا بجٹ کچھ حد تک درست رہا  کچھ خامیوں کے ساتھ  بعد میں اس سےمیں ایک ہزار کروڑروپئے کم کردئے گئےجو بالکل ٹھیک نہیں ، اورمرکزی حکومت سے دئے جانے والے فنڈ کو کے یم ڈی سی نے واپس کردیا ہے،جس سے بہت ساری فلاحی اسکیموں کو نقصان ہوا سیدھے بیانک سے دیا جانے والا قرض ،ڈائرکٹ لون اسکیم،اریواسکیم،میڈیکل تعلیم کیلئے،ہائرایجوکیشن کے لئے جو رقم دی جاتی تھی،اِن سب کو کم کردیا گیا، جس کا خمیازہ اقلیتوں کا بہت بڑا نقصان ہوگا، حکومت کو چاہئے کہ پچھلی تمام اسکیموں کو پھر سے لاگو کرایا جائے ،تو مرکزی وزیر نے یقین دلایا کہ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سے بات کرکے مسائل کو سلجھانے کی پوری کوشش کی جائیگی۔