بزمِ امیدِ فردا کے زیرِ اہتمام آن لائن ویبنار کا کامیاب انعقاد

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔بزمِ امیدِ فردا کے زیرِ اہتمام آن لائن فیس پر ایک ویبنار بعنوان  ’’فخرِ ہندوستان بچوں کے شاعری کے امام ڈاکٹر حافظ کرناٹکی- فن اور شخصیت‘‘  کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا۔ ڈاکٹر عبداللہ سلمان نے تلاوتِ آیاتِ ربانی فرمائی اور صبا انجم عاشی نے نعت کا نظرانہ پیش کیا۔سید عرفان اللہ، سرپرست، بزمِ امیدِ فردا نے نظامت کے فرائض انجام دئے ۔ عرفان اللہ نے تمام مہمانان و آن لائن ناظرین کا استقبالیہ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر حافظ کرناٹکی کو بال ساہتیہ پرسکار تفویض ہونے پر تمام اہلِ اردو ادب کی جانب سے مبارکباد پیش کیا اور بزمِ امیدِ فردا کی شیموگہ ٹیم کی مدد سے ڈاکٹرحافظ کرناٹکی کے مکان میں ان کی تہنیت آن لائن ناظرین کے روبرو فرمائی۔ آن لائن ویبنارکی صدارت ڈاکٹر سید قدیر ناظم سرگروہ، سابق چیرمین، کرناٹک اردو اکادمی نے فرمائی۔ ڈاکٹر قدیر ناظم نے صدارتی کلمات ادا کرتے ہوئے بزمِ امیدِ فردا کی آن لائن ویبنار میں آف لائن تہنیت کی بہت ستائش کی اور فرمایا کہ یہ آئندہ کیلئے ایک تحریک ثابت ہوگا۔ ڈاکٹرآگے فرمایا کہ ’’ شمال والوں کو تسلیم کرنا ہوگا کہ جنوب والے بھی شمال والوں سے پیچھے نہیں ہیںاور اردو ادب اگر زندہ ہے تو وہ جنوب میں زندہ ہے، سرحدوں سے یا علاقوں سے شاعر نہیں بنتا بلکہ شاعر اپنی تخلیقات سے شاعر بنتا ہے۔‘‘ ڈاکٹر حافظ کرناٹکی کی رباعی کے تعلق سے فرمایا کہ ’’ افتخار صدیقی نے کہا ہے ڈاکٹر حافظ کرناٹکی اردو عالمی رباعی گائوں کے مکھیہ ہیں‘‘۔  ڈاکٹر حافظ کرناٹکی ، سابق چیرمین ،کرناٹک اردو اکادمی مہمانِ اعزازی رہے ۔  مقررین میں ڈاکٹر فرحت حسین خوشدل ’’بچوں کی شاعری کے امام ڈاکٹر حافظ امجد حسین کرناٹکی ‘‘ کے تعلق سے ایک تہنیتی نظم پیش کی ، جناب وحید واجد ’’ حافظ کرناٹکی کے لکھے کلامِ اطفال کا فنی محاسبہ‘‘ کے عنوان سے کافی سود مند باتیں بتائیں اور ڈاکٹر عبداللہ سلمان نے ’’حافظ کرناٹکی اور ادبِ اطفال‘‘ کے تعلق سے مختصر مگر جامع انداز میں ڈاکٹر حافظ کرناٹکی کی فن اور شخصیت کے تعلق سے اظہارِ خیال فرمایا۔ سید عرفان اللہ کے ہدیہ تشکر کے ساتھ ویبنار کے اختتام کا اعلان ہوا۔