گورنرکو خوش کرنے کیلئے جوگ فالس میں چھوڑاگیا200کیوسیک پانی

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔جب جب خصوصی شخصیات کی آمدہوگی اُس وقت اگر جوگ فالس کے نظارے کو محسوس کروانے کیلئے اگر باندھ سے پانی چھوڑاجانےلگاتو کسانوں اور آبی وسائل کا کیاحشرہوگااس کااندازہ لگانا مشکل ہے۔ایساہی ایک معاملہ یہاں پیش آیاہے،جس میں گورنرکی آمدکے دوران کرناٹکا پائورکارپوریشن (کے پی سی )کے اہلکاروں نے200 کیوسیک باندھ کے پانی کو جوگ فالس کی خوبصورتی بڑھانے کیلئے چھوڑاتھا۔قانون کے مطابق یہ غیر قانونی عمل ہے۔گورنرتھاورچند گہلوت جب جوگ فالس کانظارہ دیکھنے پہنچے تو انہیں خوش کرنے کیلئےکے پی سی کے اہلکاروں نے باندھ میں جمع200 کیو سیک پانی آبشارمیں جاری کیا۔حالانکہ اس وقت جوگ فالس کا قابل دیدہے،مگر اسے مزید خوبصورت بنانے کیلئے یہ حرکت کی گئی۔اس کاسب سے بُرااثر شراوتی بیاک واٹر اور اپر پروجیکٹ کے قریب موجود ساکنان کو اٹھاناپڑاہے،جنہیں قبل از وقت اطلاع نہیں دی گئی۔آبشارمیں اچانک پانی چھوڑنے سے ندی کے پانی کی سطح میں اضافہ ہواہے،اسے دیکھ کر لوگ گھبرائے گئے اور ان کی سوچ یہ تھی کہ کہیں باندھ میں درار نہ پڑگئی ہو۔کل یعنی جمعرات کی صبح کےپی سی کے افسروں نے باندھ میں پانی جاری کیا،قریب 30.8 بجے گورنر گہلوت جوگ فالس کانظارہ کرنے پہنچے ،مگر ان کے پہنچنے کے بعدبھی باندھ سے جاری کئے جانےو الاپانی جوگ فالس تک نہیں پہنچاتھا بلکہ ان کی روانگی کے بعد پانی جوگ فالس میں آیا۔کے پی سی کے اہلکاروں کی جانب سے اٹھائے گئے اس قدم سے مقامی لوگ ناراض ہیںا ور انکا کہناہے کہ اگر اسی طرح سے وی آئی پی کی آمدپرپانی جاری کیاجاتا رہاتوباندھ میں بجلی کی پیداوار کیلئے پانی کاقلت کا سامنا کرناپڑسکتاہے۔دریں اثناء ماحولیاتی جہدکاروں نے اس معاملے میں آوازاٹھاتے ہوئے مطالبہ کیاہے کہ حکومت اس غیر قانونی حرکت کو انجام دینے والےافسروں کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔