شیموگہ: ۔مرکزی حکومت کے دو نیشنل بینکوں کی نجکاری کے اقدام کے خلاف دوروزہ خدمات ترک کرتے ہوئے ملکی سطح پربینک ملازمین کی تنظیموں کی جانب سے احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے پیش نظر آج نے شہر کے بی ایچ روڈ پر واقع اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے سامنے اور ضلع پنچایت کے بالمقابل واقع کینرا بینک کے علاقائی دفتر کے سامنے مشترکہ پلیٹ فارم کے ذریعہ بینکنگ عملے نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔مرکزی حکومت کی مزدور مخالفت اور عوامی دشمن بینکنگ پالیسی کے خلاف ملازمین نے برہمی کا اظہار کیا۔ ملازمین کا مطالبہ ہے کہ بینکنگ کے قوانین میں ترمیم کو منسوخ کیا جائے۔ سرکاری بینکوں کی نجکاری نہیں ہونی چاہئے۔ قرضوں کی وصولی کیلئے سخت اقدامات اٹھائے جانے چاہئے۔ بینکوں میں خالی آسامیوں کو پرُ کیا جائے۔اگر حکومت پرائیویٹائزیشن ترمیمی بل نافذ کرتی ہے تو حکومت ان بینکوں کو اپنے کسی بھی کمپنی کو کسی بھی شخص کو بیچ سکتی ہے، حکومت پہلے ہی نجی ملکیت رکھنے والی کمپنیوں کو بہت ساری ذمہ داریاں دے چکی ہے۔ اب اگر نجکاری کو منظوری مل جاتی ہے تو ایسی صورت حال پیدا ہوگی کہ ملازمت کے متلاشی نوجوانوں کو بینکوں میں نوکری کیلئے بھی رشوت دینے کی نوبت آئےگی۔ اس ترمیم کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں بینکنگ سروس کی بہت زیادہ ضرورت ہے اور ہندوستان کے متوسط اور نچلے متوسط طبقے کا انحصار ان بینکوں پر ہے۔ اگر چہ کارپوریٹ کے دبائو میں آکر بینکوں کی نجکاری کی جاتی ہے تو تمام درجہ کے لوگوں کو یہاں سے سہولیات ملنا مشکل ہوسکتا ہے۔ مظاہرین نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چند لوگوں کے فائدے کو دیکھ کربہت سارےلوگوں کونقصان میں ڈالتے ہوئے انہیں بینک سے دور کرنے کے فیصلے کے خلاف جدوجہد کرنا ضروری ہوچکا ہے۔ احتجاج میں بینک ملازمین اسوسیشن کے رہنماءپنیت، ایم آر ہیگڑے، وینوگوپال، چندر شیکھر، مہابلیشور ہیگڑے، نرملا، یونائیٹڈ فورم آف بینک یونین کے اراکین موجود تھے۔
