ہندومسلم بھائی چارگی کو سیاستدانوں کے ہاتھ میں تباہ نہ کریں:مولانا عبدالطیف تنگل

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔بھارت میں ہندومسلم بھائی چارگی کو سیاستدانوں کے ہاتھوں میں تباہ ہونے کاموقع نہ دیں ، اس کیلئے پچھڑےطبقے،دلت اور اقلیتوں کو مل جل کر فاشسٹ طاقتوں کے خلاف لڑناہوگا۔اس بات کا اظہار مرکزسعد اکے مہتمم عبدالطیف تنگل نے کیاہے۔آج شہرکے فلک پیالیس میں روزنامہ آج کاانقلاب،بہوجن کرانتی مورچہ اور سدھی بھارتی کے اشتراک سے امبیڈکر جینتی اور افطارپارٹی کااہتمام کیاگیاتھا جس میں اوبی سی،دلت اور پچھڑے طبقے کے لوگوں نے شرکت کی  تھی۔اس تقریب میں بھائی چارگی کے پیغام کو عام کرنے کے مقصد سےسیکولر ذہنیت کے افراد کو بھی مدعو کیا گیا تھا تاکہ وہ بھائی چارگی کے پیغام کو عام کریں۔مولانا عبدالطیف تنگل نے کہاکہ یہ ہمارے لئے یہ خوش ائند بات ہے کہ ملک میں فرقہ پرستی کا ماحول گرم رہنے کے باوجود اب بھی سیکولر ذہنیت کے لوگ ہمارے درمیان موجودہیں اور بھارت کی اکثریت اب بھی امن وامان کی قائل ہے۔اس موقع پر شیموگہ ضلع وکلاء اسوسیشن کے صدر بی جی شیومورتی نے بات کرتے ہوئے کہاکہ رمضان کے موقع پر امبیڈکر جینتی کا بھی اہتمام کیاگیاہے،یہی عنوان اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمان بھی امبیڈکر کی تعلیمات کی سراہانہ کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنے کی خواہش رکھتے ہیں۔بابا صاحب امبیڈکرنے جو دستوربھارت کیلئے پیش کیاہے اُسی دستورکا استعمال کرتے ہوئے ہم لوگ آج آزاد زندگی گذار رہے ہیں ورنہ بھارت میں اقلیتوں،پسماندہ طبقات اور دلتوں کا جینا محال ہوسکتاتھا۔سوراج بھارت کے کنوینیر اڈوکیٹ شریپال نے بات کرتے ہوئے کہاکہ شیموگہ جیسے حساس شہرمیں بھائی چارگی کا عام کرنےا و ر فاشسٹ طاقتوں کو کمزو رکرنے کیلئے اس طرح کی بیٹھکوں کی اشد ضرورت ہے۔شیموگہ امن وامان کا گہوارا تھا لیکن آج اسے فرقہ پرستوں نے اسے ناپاک کررکھاہے۔دلت سنگھرش سمیتی کے ضلعی صدر ہالیشپا نے بات کرتے ہوئے کہاکہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمیں بابا صاحب امبیڈکرنے دستورمیں مساوی حق دیاہے،اگر وہ دستورمیں مساوات کو ترجیح نہیں دیتے تو منو اسمرتی بھارت پر مسلط ہوتی۔بھارت کے بیشتر مسلمانوں کا تعلق ماضی میں  دلتوں سے رہاہے، بھارت کے کئی دلت بعدمیں بُدھسٹ،مسلمان اور عیسائی بن گئے ،یہ سب اونچی ذات کے ظلم کا شکاررہے ہیں،اب بھی یہ لوگ بھارت میں ہندوتوا کوعام کرنے کی کوشش کررہے ہیں،جب تک بابا صاحب امبیڈکر کا دستوراس ملک میں رہے گا اُس وقت تک منو اسمرتی کے دعویدار کامیاب نہیں ہونگے۔امبیڈکرازم اور فاشزم دونوں ہی مدِ مقابل ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ امبیڈکرازم ہی کامیاب رہے گا۔امبیڈکرازم ایک سوچ کا نام ہے جسےآج تمام طبقات قبول کرنے کیلئے مجبور ہورہے ہیں۔ہندومسلم بھائی بھائی کہنے کے بجائے دلت مسلم بھائی بھائی کہنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہندوئوں میں دوسرے طبقات کے مقابلے میں دلت ہی مسلمانوں کے ساتھ ہیں اور مسلمان دلتوں کے ساتھ میں ہیں۔جلسے میں بہوج کرانتی مورچہ کے ضلعی کنوینیر محمدوثیق،عمران خان،منجوناتھ،صحافی مدثراحمد،محمد لیاقت اور مسجد اعلیٰ کمیٹی کے صدر ناصف احمد موجودتھے۔آخرمیں افطار کا اہتمام کیاگیاتھا۔