بنگلورو:۔محکمہ پولیس میں بھرتی کے تعلق سے سال 18-2017سے لیکر اب تک کرناٹکا حکومت نے جو احکامات جاری کئے ہیں،ان احکامات کے تحت کتنے پولیس اہلکاروں کی تقرری ہوئی ہے،یہ بات ابھی سامنے نہیں آئی ہے،لیکن حکومت نے ان4 سالوں میں بے روزگاروں سے امتحان کی فیس کے نام پر کروڑوں روپیوں وصول کئے ہیں۔روزنامہ آج کاانقلاب کی جانب سے محکمہ پولیس کو آرٹی آئی پیش کی تھی جس میں امتحانات کیلئے لئے گئے فیس کی تفصیلات دریافت کی تھیں۔اس تعلق سے محکمہ پولیس کے ریکرئوٹمنٹ کے اڈیشنل ڈی جی پی کے دفتر سےجاری کردہ تفصیلات کے مطابق سال18-2017 میں پولیس کانسٹیبل سیول کیلئے جملہ 3939عہدوں کیلئے عرضیاں طلب کی گئی تھیں،جس کیلئے3کروڑ56 لاکھ 1260 روپئے کی فیس وصولی گئی تھی جبکہ اسی سال 2038ڈی اے آر اور سی اے آر پولیس کانسٹیبل کے کیلئےعرضیاں طلب کی گئی تھیں،جس کیلئے محکمہ نے2کروڑ95 لاکھ53 ہزار 980 روپئے کی فیس وصولی تھی ۔ سال 2018-19 میں محکمہ نے سیول پولیس اورڈی اے آر پولیس کیلئے جملہ3231 عرضیاں طلب کی تھیں،جس کیلئے عرضی گذاروں نے حکومت کے خزانے میں 4کروڑ88 لاکھ40ہزار287 روپئے جمع کئے تھے۔سال2019 میں ڈی اے آر اور سیول کانسٹیبل کے عہدوں کیلئے2335 عہدوں کیلئے عرضیاں طلب کی تھیں،جس میں5کروڑ37 لاکھ99ہزار212 روپئے کی فیس جمع کی گئی تھی ۔ سال21-2020 میں محکمہ پولیس نے ڈی اے آراور سیول کانسٹیبل کیلئے 5027 عہدوں کو طلب کیا گیاتھا،جس کیلئے امیدواروں نے13 کروڑ63 لاکھ11ہزار800 روپئے حکومت کے خزانے میں جمع کئے ہیں۔سوال یہ ہے کہ جولوگ نوکریوں کی خواہش میں رہتے ہیں اور جن کا گذارا چلانا مشکل ہے اُن سے محض پانچ سالوں کے درمیان حکومت نے 304106540 یعنی 30کروڑ41 لاکھ6 ہزار 540 روپئے کی رقم وصول کراپنا خزانہ بھر ا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ نوکری کے نام پر ایک طرف حکومت بھاری پیمانے پر فیس وصول کررہی ہے تو دوسری جانب بے روزگاری کی شرح میں کمی نہیں آرہی ہے۔ہزاروں نوجوان پولیس میں بھرتی ہونے کی چاہ لیکر امتحان کی فیس اداکرتے ہیں،مگرمحکمہ پولیس نامعلوم وجوہات کی بناء پر یا پھر امتحانات کا پرچہ افشاں ہونے کی بنیادپر امتحانات کومنسوخ کرتاہے۔ان تمام بنیادی باتوں کو لیکر محکمہ پولیس پر سخت سوال اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔بعض موقعوں پر ایسا محسوس کیا جاتا ہے کہ کہیں حکومت فیس کی وصولی کیلئے ہی محکمے میں بھرتی کے تعلق سے احکامات جاری کرتی ہے۔
