حالاتِ حاضرہ کے تیئں لائحہ عمل تیار کریں : محاذ کی اپیل 

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔اس وقت ہماراملک فسطائیت کی تباہ کن آندھی کے زد میں ہے۔ ہمیں اس وقت حالات حاضرہ کے تئیں لائحہ عمل تیار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس بات کی اپیل مسلم متحدہ محاذ شیموگہ کی جانب سے کی گئی ہے۔ محاذ نے اس تعلق سے اپنی فکر و سنجیدگی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ہمارا ملک اس وقت فسطائیت کا شکار ہوچکا ہےایسا محسوس ہوتا ہے کہ عنقریب دنیا بھر میں مشہور ومعروف ہماری گنگا جمنا تہذیب وتمدن، اخوت وبھائی چارگی،مذہبی وسماجی رواداری کے مضبوط تانے بانے فسطائیت کی آگ میں جل رہے ہیں۔ بالخصوص 2014 میں جب سے فرقہ پرست اورفسطائی قوتوں کا اقتدار پر تسلط ہواہے عوام کی روزمرہ کی زندگیاں درہم برہم بن گئی ہیں۔ 75 فیصد سے زائد لوگوں کی جان ومال عزت وآبرو محفوظ نہیں ہے۔ تقریباً ملک کے تمام شعبہ ہائے حیات منجمد ہوچکے ہیں ۔ پارلیمنٹ، اسمبلیاں اور عدالتوں کے ساتھ ساتھ سیاسی، سماجی ، معاشی وتعلیمی ادارے فسطائیت کے خونخوار جبڑوں میں ایک طرح پھنس چکے ہیں۔ بالخصوص ملک کے کونے کونے میں کسی نہ کسی بہانے مسلمانوں پر ظلم وتشدد کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔ جیسے کہ دہلی ، آسام اورتریپورہ میں ہونے والے ایک طرفہ مظالم گواہ ہیں بلکہ وہاں پر معصوم لوگوں پر ہونے والی قتل وغارتگری ظلم وتشدد کے مناظر کو سن کر آج بھی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ مساجد ، مدارس مکاتب درگاہوں اورخانخواہوں کی بے حرمتی عام سی بات بن گئی ہے۔ حتیٰ کہ خود ہماری ریاست بھی فرقہ پرست شرپسندوں کے نشانے پر ہیں ۔ حال ہی میںگدگ ، ٹمکور، کورگ اورساحلی علاقوں میں رونما ہونے والے خوفناک واقعات شاہد ہیں۔ مسلمانوں نوجوانوں کی سماجی اوراخلاقی گمراہیوں وبرائیوں کی وجہ سے شہر شیموگہ کے مسلمانوں کا سرشرمندگی سے جھک گیا ہے۔ مسلم سماج میں شراب ، جوا، گانجہ، افہیم ودیگر نشیلی چیزوں کے ساتھ ساتھ آپس میں قتل وبربربیت مسلم نوجوانوں کا شیوہ بن گیا ہے ۔ اس کے علاوہ مختلف قسم کے گھنائونے سماجی جرائم نے پورے مسلم سماج میں زلزلہ پیدا کردیا ہے۔ بہرحال اسطرح کی سنگین صورتحال کا تقاضہ ہے کہ علماء اکرام اساتذہ کرائم ، ائمہ عظام ، معززین شہر وملی ، دینی، مذہبی، سیاسی ، سماجی اور تعلیمی ذمہ داران کیلئے نہ صرف ایک لمحہ فکر یہ ہے بلکہ وقت وحالات کاتقاضہ ہے کہ وہ آپس میں اتحاد واتفاق کے ساتھ مل جل کر پوری امت مسلمہ کی جان ومال عزت وآبرو کے تحفظ کی خاطر ایک ٹھوس لائحہ عمل تیار کریں اور وعظ ونصیحت درس وتدریس ، تقریر وتحریر کے ساتھ خطبات جمعہ کے ذریعہ عام مسلمانوں کی اصلاح وتربیت فرمائیں۔