مجھے کورونا وائرس مل جائے تو اسے فڑنویس کے منھ میں ڈال دوں:شیوسینا رکن اسمبلی

نیشنل نیوز

ممبئی: کرونا کی بیماری کے خاتمے کے لئے استعمال کیے جانے والے انجکشن ریمڈیسیویر کی سپلائی کے معاملے میں مھاراشٹر میں اپوزیشن بی جے پی کی جانب سے ریاستی حکومت کے خلاف جاری الزام تراشیوں کا آج شیوسینا نے اپنے انداز میں جواب دیا اور پارٹی کے ایک سنیر ایم ایل اے سنجے گائکواڈ نے کہا ہے کہ اگر انہیں کورونا وائرس مل جاتا ہے تو وہ اسے بی جے پی کے رہنما دیویندر فڑنویس کے منہ میں ڈال دینگے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن پارٹیاں اس دوائی کی قلت کو لیکر سراپا احتجاج بنی ہوئی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ خود مرکز کی بی جے پی حکومت اس کی ذمہ دار ہے۔گائکواڑ نے کہا کہ ممبئی پولیس نے کل رات ریمیڈیسیور کی ذخیرہ اندوزی کرنے والی ایک کمپنی کے منیجر ومالک کو حراست میں لیا تھا لیکن دیوندرفڈنویس اور بی جے پی لیڑر پروین دریکر نے پولیس کی کارروائی میں رخنہ ڈالتے ہوئے ملزمین کو رہا کروا لیا۔ اس موقع پر فڈنویس نے دعویٰ کیا کہ ریمیڈیسور کا مذکورہ ذخیرہ بی جے پی کا ہے جس کی مرکزی حکومت نے اجازت دی ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ریمیڈیسور کا ذخیرہ کوئی پرائیویٹ شخص نہیں کرسکتا تو پھر فڈنویس کو یہ اجازت کیسے حاصل ہوگئی؟ کیا مرکزی حکومت نے بی جے پی وفڈنویس کو ریمیڈیسیور کی ذخیرہ اندوزی وکالا بازاری کرنے کی اجازت دی ہے؟ کورونا کی وبا کے دوران ذخیرہ اندوزی کرنے والوں پر جب پولیس کارروائی کر رہی ہے تو ایسے میں پولیس کی کارروائی میں رخنہ ڈالنا نہایت سنگین معاملہ ہے۔ اس معاملے کی تفتیش کرتے ہوئے پولیس پر دباؤ ڈالنے والے دیوندرفڈنویس، پروین دریکر اور دیگر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔