داونگیرے:۔پچھلے ماہِ ربیع اول کے موقع پر شہر کے ملت تعلیمی ادارے میں طلباء و طالبات کے مستقبل کو سنوارنے اور ساری دُنیا ں میں کہرام مچائے ہوئے مہلک وبائی مرض کورونا کی وجہ پچھلے دو سال سے اسکول کالج ،کاروبا وغیرہ معاملات بند رہنے سے پریشان حال لوگوں میں بالخصوص طلباء میں ہمت باندھنے اور طلباء کی تعلیمی زندگی میں کسی قسم کے ناخوشگوار معاملات سے بچانے علمائے کرام کی صلاح کے مطابق اسکول انتظامیہ و اساتذہ نے فیصلہ لیا کہ ادارے سے منسلک سبھی مل کر رسول اکرمﷺ کی بارگاہ میں ایک کروڑ پچیس لاکھ درود کے ورد کانشانہ مقرر کیا تھا جس کے پیش نظر آج اجلاس کے دن تک طلباء طالبات اساتذہ و انتظامیہ سے جڑے سبھوں نے مل کر نشانہ پار کرتے ہوئے دو کروڑ پچیس لاکھ درودؤں کا ورد کیا۔ جنہیں ملت میدان میں منعقد ایک اجلاس میں بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں پیش کیا گیا ۔اسی کے پیش نظرملت کالج میدان منعقدہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے ادارے کےبانی و اعزازی سکریٹری سید سیف اُللہ نے کہا کہ ملک کے جو حالات آج ہمارے سامنے ہیں ان حالات کا سامنا کرنے کیلئے ہماری نسلوں کو تعلیم یافتہ ہونا بے انتہاء ضروری ہے۔ ملت تعلیمی ادارے کے قیام کے ساتھ محدود وسائل کے باوجود بلند حوصلوں کے ساتھ قوم کے نو نہالوں کو آج جومقام دلانے کے خواب ہمارے تھے وہ پورے تو نہ ہوئے مگر کچھ حد تک ضرور ہوئے اس دوڑ میں قوم کے تعلیم یافتہ سرمایہ دار طبقہ کی اور والدین کی جو ذمہ داری تھی وہ بحسن خوبی نبھائی جاتی تو آج یہاں کے پروان چڑے طلباء آسمان کے ستاروں کی مانند ملک کے ہر شعبہ میں نظر آتے دیر ضرور ہے مگر وقت ابھی بھی ہے۔پچھلے دوسالوں سے مہلک وبائی مرض سے چھٹکارے کیلئے بھی اعمال صالح کے ساتھ اُٹھتے بیٹھتے پڑھتے لکھتے ہر وقت ہمیں چایئے کہ ہماری زبانِ ذکر رسول ﷺ سے تر رہے،اس درود کی برکت سے یقیناً اللہ رب العزت طلباء کی تعلیمی زندگی میں نکھار اور وباؤں سے محفوظ فرمائیگا اور یہ ذکر صرف کسی شعبہ سے جڑے افراد کے لئے محدود نہیں زمانے بھر میں تمام شعبہ جات سے وابستہ انسانوں کی بھلائی کا ضامن ہےہم نے ایک نشانہ طئے کیا تھا کہ ایک کروڑ پچیس لاکھ درود کے ورد کے کا نظرانہ پیش کرینگے اوردوکروڑ پچیس لاکھ تک اس ذکر کا ورد آسانی سے کرلیا گیا ،میں سمجھتا ہوں اسی ذکر خیر کا نتیجہ ہے کہ آج مسلسل پانچ گھنٹے سے چل رہے اس اجلاس میں جو نظم ہمارے طلباء میں دیکھنے میں آرہا ،ہمارے گھروں میں بھی ایک سکون کا پایا جانا ہماری زندگیوں میں بھی ایک قرار حاصل ہونا یہ یقیناً ذکر رسول ﷺ کی برکت ہے۔جلسہ کاآغاز خطیب وامام مسجد اقصیٰ مولانا الیاس کے ذریعہ تلاوت کلام پاک سے ہوا۔طالب العلم مسکان بانو نے حمدپیش کی اور نعت کا نظرانہ حافظ مظہر الحق نے پیش کیا۔جلسہ میں موجود مہمانان مفتی شہریا رخان ، سابق سنڈیکیٹ بینک ڈائرکٹر سماجی کارکن ڈاکٹر سی آر نصیر احمد ، اڈوکیٹ صادق اُللہ چتردرگ ،اڈوکیٹ قلعدار مشتاق احمد ،نائب سکریٹری ملت ایجوکیشن اسوسیشن و جنرل سکریٹری ریاستی یوتھ کانگریس سید خالد احمد ،داود محسن وغیرہ نے بھی خطاب کیا ۔جلسہ کی صدات مفتی حنیف رضا نے انجام دی اور صدریس ہیچ انور ، نائب صدرین کے اسماعیل،منتظم ملت تعلیمی ادارہ جات سید علی ،استقالیہ و شکریہ ذاکر حسین نے انجام دئیے۔اساتذہ میں ڈاکٹر ذولقرنین باشاہ، خوشتری بیگم ،محمد ذاکر حسین ، وغیرہ اجلاس میں شریک رہے۔
