شیموگہ:۔کرناٹکا پردیش کانگریس کے اقلیتی شعبہ کے صدر عبدالجبار نے اپنے شیموگہ دورے کے دوران روزنامہ سے خصوصی گفتگوکی۔اس دوران انہوں نے کہاکہ آج ملک کے جو موجودہ حالات ہیں ان حالات میں مسلمانوں کا یہی شکوہ رہتاہے کہ پنا کوئی لیڈر یا کوئی قائد ہونا چاہیے،میں نے اس بات کو تب محسوس کیاکہ جب میں کرناٹکا پردیش کانگریس کا ریاستی اقلیتی صدر کا عہدہ سنبھالا،اس اجلاس میں مسلمانوں کی جانب سے مجھے ہمت افزائی کی گئی ،ایسے میں میں اس بات کا یقین دلاتا ہوں کہ مسلمانوں کے جوبھی مسائل درپیش ہیں اُن مسائل کو میں حل کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کرونگا۔ان حالات کو دیکھتے ہوئے میں نے پچھلے دنوں ریاست کے سابق اور حالیہ مسلم اراکین اسمبلی اور اراکین پارلیمان کے ساتھ تبادلہ کیاگیاہے اور جس میں اس بات پرزوردیاگیاہے کہ آج کے موجودہ حالات میں ہمیں ریاست کے 224 حلقوں میں متحد ہوتے ہوئے ایک پلاٹ فارم بناناہوگا اور اس بات کو ثابت کرناہوگا اور ہماری قوم کو یقین دلانا ہوگاکہ ہم ان کےمسائل کو حل کرنے کیلئے ہم پیش پیش رہیں گے،تاکہ مسلمان اپنے مسائل کو لیکر ہمارے پاس بلاجھجک آسکیں۔تمام مسلم اراکین اسمبلی اور اراکین پارلیمان کے ساتھ تبادلہ خیال کرنے کے بعد تمام اراکین نے اس بات پر اکتفاکیاکہ آنے والےدنوں میں ہم متحد ہوکرمسائل کو حل کرنے کی کوشش کرینگے۔مزید عبدالجبارنے کہاکہ میں اپنے سیاسی تجربے کی بنیادپر قوم کیلئے یہی کہنا چاہتا ہوں کہ جوقوم کیلئے کام کررہے ہیں ایسے
لوگوں کو حکومتوں کے سامنے اپنی آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے،کیونکہ کوئی بھی مسلم سیاسی لیڈرچاہے وہ کسی بھی پارٹی سے منسلک ہو ،وہ اپنے اعلیٰ سیاسی لیڈران کے سامنے کچھ کہنے یا بولنے سے جھجک سکتا ہے،لیکن قوم کیلئے جو افراد کام کررہے ہیں ایسے لوگوں کو اپنی بات حکومتوں کے سامنے کیلئے کسی بھی طرح کی
پریشانی نہیں ہوسکتی۔اگر ہم اپنے اپنے محلوں کی مساجدکو مرکز بنائیں اور ہمارے ہر طرح کے مسائل پر تبادلہ خیال کرینگےتو صدفیصد تمام مسائل ہوسکتے ہیں اور مسلمانوں میں یکجہتی آئیگی،جب تک مسلمان متحد نہیں ہوسکتے تب تک ہمارے مسائل حل نہیں ہونگے،کیونکہ آج ہم ایک مسلم قوم ہونے کے باوجود الگ الگ فرقوں ، مسلکوں اور یہاں تک کہ اپنی اپنی مسجدوں میں بٹ چکے ہیں،ایسے میں فرقہ پرست طاقتیں ہم پر غالب آچکی ہیں،اس لئے وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ہمیں متحد ہونے کی اشدضرورت ہے۔کسی بھی سیاسی لیڈر کے پیچھے اُس کی
قوم کا بہت بڑا رول رہتاہے کیونکہ متحدہ طور پر قوم کی آوازہی لیڈر کی طاقت بن سکتی ہے،اگر ہمیں قوم کی نمائندگی کرنا ہے تو سب سے پہلے ہمیں متحد ہوناہوگا۔کانگریس کےدورِ اقتدارمیں اقلیتوں کو مختلف طرح کے منصوبے رائج کئے گئے ہیں،لیکن مرکزاور ریاست پر فرقہ پرست حکومتیں براجمان ہونے کی وجہ سے اقلیتوں وپسماندہ طبقات کو ملنے والی سہولیات سے محروم ہوناپڑرہاہے اورملک بھر میں مسلمانوں پر ظلم وتشدد کیا جارہا ہے ، مسلم نوجوان لڑکوں کوجیلوں میں بند کیاجارہاہے تاکہ ملک میں مسلمانوں کا مستقبل تاریک بن جائے،ایسے میں قومِ مسلم کو متحد ہوتے ہوئے بیدارہونے کی ضرورت ہے۔آج قوم میں تعلیم یافتہ تو بہت ہیں لیکن تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود مسلم نوجوان تہذیب سے دور ہوتے جارہے ہیں،ہمیں عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی بھی اشد ضرورت ہے۔
