ای وی صنعت کیلئے ’’ون انڈیا ۔ ون پالیسی‘‘ کے تحت حکمت عملی بھی ضروری ؛پارلیمانی پینل کی رپورٹ

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی :۔پارلیمانی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ ہندوستان میں الیکٹرنک گاڑیوںکو بڑے پیمانے پر اپنانے میں مطلوبہ نتائج کے لیے ایک ’’وسط مدتی کورس ‘‘ کی ضرورت ہے۔ وہیں ای وی صنعت کیلئے ’’ون انڈیا ۔ ون پالیسی‘‘ کے تحت ایک مرکوز حکمت عملی بھی ضروری ہے۔ تاکہ اس کی شمولیت کو بڑھایا جاسکے اور الیکٹرنک گاڑیوں پر سبسڈیز اور فنانسنگ کو فروغ دیا جاسکے۔پینل نے پارلیمنٹ میں پیش کی گئی اپنی رپورٹ میں کہا کہ کمیٹی ہندوستان میں الیکٹرنک گاڑیوں کی فروخت میں کم توجہ کو نوٹ کرتی ہے اور اپنی گہری تشویش کا اظہار بھی کرتی ہے۔ یعنی وزارت روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز کی طرف سے سال 2015 میں FAME-I اسکیم کے آغاز کے بعد سے انٹرنل کمبشن انجن (ICE) گاڑی کے مقابلے میں ای وی ایک فیصد سے بھی کم فروخت ہوئی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں سبسڈی، مالی مدد، آر اینڈ ڈی وغیرہ کے ذریعے ای وی کو اپنانے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔ اس ضمن میں حکومت کی کارکردگی دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے، یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں ای وی کو اپنانے کا عمل بہت سست رہا ہے۔کمیٹی نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں کہا ہے کہ کمیٹی حکومت پر زور دیتی ہے کہ وہ ای وی کی مانگ میں اضافہ کے لیے سبسڈی، مراعات اور طویل مدتی پائیدار پالیسیوں کے ذریعے الیکٹرک موبلٹی کو تیزی سے اپنائے اور اس کے لیے متحرک کردار ادا کرے۔ اس کے علاوہ جن ریاستوں نے ای وی پر روڈ ٹیکس یا رجسٹریشن فیس کو مکمل طور پر معاف نہیں کیا ہے، انہیں ایسا کرنے کی ہدایت دی جانی چاہیے تاکہ صارفین کو ای وی کی خریداری کی طرف راغب کیا جا سکے۔کمیٹی نے مزید کہا کہ مرکز اور ریاستوں میں پالیسیوں کو ہم آہنگ کرنے کی سخت ضرورت ہے کیونکہ مرکزی اور ریاستی پالیسیوں کے ڈھانچے اور مراعات کی مقدار میں فرق کی وجہ سے صارفین میں غیر یقینی صورت حال ہے۔ اسی وجہ سے پورے ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت یکساں طور پر نہیں بڑھ رہی ہے۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ حکومت کو پورے ملک میں مرکزی اور ریاستی پالیسیوں کو ہم آہنگ کرنا چاہئے اور ہندوستان میں الیکٹرک موبلٹی کو جلد اپنانے کیلئے ’’ایک ہندوستان ایک پالیسی‘‘ اپنانا ہوگا۔