دہلی:۔دہلی کی سرحدوں پر گزشتہ ایک سال سے کسان احتجاج کو ختم کرنے کے لیے مرکز نے ایک نئی پہل کی ہے۔ منگل کو مرکز نے متحدہ کسان مورچہ کو پانچ تجاویز بھیجی ہیں، تاہم اس کے بعد کسان مورچہ نے میٹنگ کی اور ان پر غور کیا۔ کسان مورچہ نے مرکز کی بعض شرائط پر سوال اٹھائے ہیں،البتہ آج یعنی بدھ کو مرکز کی تجویز پر ذہن سازی کے بعد حتمی فیصلہ لیں گے۔ میٹنگ ختم ہونے کے بعد متحدہ کسان مورچہ نے کہا کہ حکومت کی تجویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ہمیں وزارت داخلہ سے ایک تجویز ملی ہے۔ حکومت کا تحریری تجویز دینا اچھی بات ہے۔ ایم ایس پی پر کمیٹی پر کچھ اعتراض ہے۔ تحریک واپس لینے کی شرط پر بھی اعتراض ہے۔ تحریک کی واپسی کے بعد ہی کیس واپس لینے کی بات ہوئی ہے، ہم حکومت کی شرائط ماننے کو تیار نہیں۔ کمیٹی کے حوالے سے ہمارے کچھ سوالات بھی ہیں۔مرکزی حکومت کے مسودے کے مطابق ایم ایس پی پر بننے والی کمیٹی میں متحدہ کسان مورچہ کے پانچ ارکان کو شامل کیا جائے گا۔وہیں حکومت نے کسانوں کیخلاف درج مقدمات کو ایک سال کے اندر واپس لینے کی تجویز بھی دی ہے۔ اس کے علاوہ اس مسودے میں پنجاب ماڈل پر معاوضہ دینے کی بات بھی شا مل ہے۔اطلاعات کے مطابق ہریانہ اور یوپی ریاست کیس واپس کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بجلی کے بل کے حوالے سے حکومت کا موقف لچکدار ہے۔پرالی جلائے جانے پر فوجداری دفعات ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اگر تحریک واپس لی جاتی ہے تو اس عرصے کے دوران کسانوں کیخلاف درج کیے گئے تمام مقدمات واپس کر دیئے جائیں گے۔ ایم ایس پی پر بحث کے لیے ایک کمیٹی بنائی جائے گی۔جس میں ایس کے ایم متحدہ کسان مورچہ کے قائدین اس میں شامل ہوں گے۔احتجاج کی واپسی پر کسان لیڈر کلونت سنگھ سندھو نے کہا کہ اس پر بدھ کو فیصلہ کیا جائے گا۔ مرکز کی طرف سے بھیجے گئے مسودہ کی تجویز پر پوری طرح سے اتفاق نہیں کیا گیا ہے۔ یہ کسانوں کے مطالبات ہیں۔ ایم ایس پی کی گارنٹی کے لیے قانون بنایا جائے۔ احتجاج کے دوران مرنے والے کسانوں کے اہل خانہ کو معاوضہ دیاجائے ۔ کسانوں کیخلاف درج تمام مقدمات واپس لیے جائیں۔ بجلی کے بل اورفصلوں کی باقیت کا بل منسوخ کیا جائے۔ لکھیم پور کھیری تشدد کیس میںکلیدی ملزم آشیش مشرا کے والد اور مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا کو عہدے سے معزو ل کیا جانا چاہیے ۔
