شیموگہ: ۔کسانوں کو قرض سے نجات دلانے کا مطالبہ سمیت متعدد مطالبات کو پورا کرنے کی مانگ کرتے ہوئے آج راشٹریہ کسان اسوسیشن کی جانب سے ڈپٹی کمشنردفترکے روبرو احتجاج کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کے ذریعہ وزیراعلیٰ اوروزیر اعظم کو میمورنڈم پیش کیا گیا ۔ مظاہرین نے بتایا کہ ریاست کے 3.5 کروڑ کسان زراعت پر یقین رکھتے ہیں،پیداوار کی لاگت زیادہ ہے اورمعقول قیمتیں نہ ملنے سے کسان مشکلات کا شکار ہوچکے ہیں۔ حکومتیں کسانوں کی مدد کیلئے نہیں آرہی ہیںبلکہ کارپوریٹ کیلئےکھڑے ہورہی ہے۔ کسان کو اننا داتا کا لقب محض الفاظ میں ادا کردیا جاتا ہے وہیں کسانوں کو قرض سے آزاد نہیں جارہا ہے۔انہوں نے دبائو ڈالاکہ حکومت فوری طور پر معقول قیمت ادا کرتے ہوئے کسانوں کی مدد کرنی چاہئے ۔اسکے علاوہ کسانوں کے تمام قرضے معاف کیے جائیں،فصلوں کاانشورینس کو صحیح طریقے سے نافذ کیا جانا چاہئے۔ بیج، کھاد اور مشینری کی خریداری پر سبسڈی دی جائے، مناسب قیمتوں کا تعین کریں اور خریداری مراکز قائم کرنے، 60 سال سے زیادہ عمر کے تمام کسانوں کو زرعی پنشن ادا کی جانی چاہئےاورکسانوں کے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے کا مطالبہ کیاگیا۔احتجاج میں راشٹریہ کسان اسوسیشن کے ریاستی صدر وی ،ناگا بھوشن ،ریڈی، ریاستی سکریٹری جنرل شیواردرپا وغیرہ موجودتھے۔
