شیموگہ:بچوں کو ماں کا دودھ پلانےکی شرح میں ہوا اضافہ؛56فیصد سے بڑھ کر74 فیصد پر پہنچی شرح

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔بچوں کے جنم لینے سے لیکر دو سال تک کہ بچوں کومائیں اپنے بچوں کو اپنا دودھ پلانے کی شرح میں جہاں کمی دیکھی گئی تھی وہیں یہ شرح اب بڑھ گئی ہے،اس کیلئے محکمہ صحت عامہ کی آشاکارکنوں کی محنت بتائی جارہی ہے۔محکمہ کے اعدادوشمارات کے مطابق سال18-2017 میں صرف56.92فیصد مائیں ہی اپنے بچوں کو اپنا دودھ پلایاکرتی تھیں،جبکہ اب یہ شرح73.94فیصد ہوچکی ہے اور بچے کے پیدائش کے ایک گھنٹے میںماں کا دودھ پلانے کی شرح95فیصد ہوچکی ہے۔انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق شیموگہ ضلع میں یہ شرح بہتر ہوئی ہے۔پچھلے دو سالوں کا موازانہ کرنے پر اس بات کا اندازہ ہواہے کہ سال22-2021 میں شرح بڑھی ہوئی ہے۔19-2018 میں مائوں کے دودھ پلا نے کی شرح 69.37فیصد درج کی گئی تھی ، 18-2017 میں یہ شرح 56.92 اور 20-2019 میں یہ شرح 68.48اور21-2020 میں73.94فیصد شرح درج کی گئی ہے۔18-2017 میں26896بچوں نے پیداہوتے ہی اپنی مائوں کادودھ پیاہے،جبکہ19-2018 میں26368 بچوں نے پیدا ہونے کے ایک گھنٹے کے اندر ماں کادودھ پیاہے۔شیموگہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اینڈ چائلڈ ہیلتھ پروگرام کے آفیسر ڈاکٹر ایل ناگراج نائک نے انڈین ایکسپریس کا بتایاکہ ہم نے پچھلے چار سالوں سے اس ضمن میں اعداد وشمارات اکٹھاکئے جس کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ بچوں کے پیدا ہونے کے بعد سے دو سالوں تک دودھ پلانے کی شرح میں اضافہ ہواہے۔دیہی علاقوں میں یہ شرح بہترہے جبکہ شہروں میں جہاں خواتین نوکری پیشہ ہیں وہ بچوں کوبروقت دودھ نہیں پلا سکتے،اس وجہ سےحکومت نے سرکاری خاتون ملازمین کو جہاں ڈیویٹی کے وقت دودھ پلانے کیلئے الگ سے وقت دیاگیاہے اور اگرچہ اس باوجود بھی دشواریاں پیش آرہی ہیں تو چھ مہینوں کی زچکی کی چھٹی کے علاوہ چھ ماہ کی دیکھ بھالی کیلئے چھٹی مع تنخواہ دی جاسکتی ہے۔کارپوریٹ اور نجی کمپنیوں میں بھی مائوں کو دودھ پلانے کی وجہ سے گھر جلد جانے کی اجازت دینی ہوگی۔