شیموگہ شہرکے نیومنڈلی کے قدیم قبرستان کاتنازعہ ابھی سردبھی نہیں ہوا،ایسے میں یہاں کے چند ہندو شرپسندوں نے نیا تنازعہ کھڑاکرتے ہوئے اس بات کا دعویٰ کیاہے کہ سوائی پالیہ کے سروے نمبر255 اور254کاقبرستان بھی ہندوئوں کی میراث ہے۔اس سلسلے میں آج مقامی منڈلیشورسوامی کمیٹی کے عہدیداروں نے پریس کانفرنس کا اہتمام کیا،جس میں انہوں نے کہاکہ یہ زمین "ہوئینا کوپلو شری مٹھ” کی ہے لیکن مسلمانوں نے اس پر قبضہ جماتے ہوئے یہاں قبرستان بنالیاہے۔اس زمین کو دوبارہ حاصل کرنے کیلئے قانونی لڑائی لڑی جائیگی۔دعویداروں نے بتایاکہ سروے257 پر توپ خانے کی زمین کوجس طرح سے عدالت نے آرکیالوجیکل ڈیپارٹمنٹ کو سونپنے کا فیصلہ کیاہے وہ قابل ستائش ہے،ہم ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر اس زمین کی حصاربندی کرے اوراس جگہ پر مسلمانوں کی آمد پر پابندی لگائی جائے۔
